ایل او سی پر کشیدگی جاری، پاکستانی فوجی ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 10 جنوری 2013 ,‭ 06:54 GMT 11:54 PST

ہم اس معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے یا اقوام متحدہ سے تفتیش کرانے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں: پی کے چدامبرم

پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ جمعرات کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک اور پاکستانی فوجی ہلاک ہوگیا ہے۔گزشتہ پانچ روز میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والی جھڑپوں میں دونوں ملکوں کے چار فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیےگئے بیان کے مطابق بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے ایک فوجی حوالدار محی الدین ہلاک ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ واقعہ پاکستانی وقت کے مطابق دو بج کر چالیس منٹ پر بٹال سیکٹر میں ایک چوکی کندی پر ہوا۔

اس سے قبل بھارت نے پاکستان کی اس پیش کش کو مسترد کر دیا ہے کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب دو بھارتی فوجیوں کی ہلاکت سے متعلق تنازع کی اقوام متحدہ سے تفتیش کرائی جائے۔

ادھر اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے چھ جنوری کو لائن آف کنٹرول پر فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کی باضابطہ شکایت مبصر مشن کی ہے اور مشن جتنا جلدی ممکن ہوا اپنے مینڈیٹ کے مطابق وہ اس واقعے کی تحقیقات شروع کرے گا۔

بھارت کا الزام ہے کہ کشمیر کے پونچھ علاقے کے میندھرسیکٹر میں منگل کی دوپہر کوہرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی فوجیوں نے لائن آف کنٹرول پار کرکے دو بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا اور ان میں سے ایک کا سر قلم کردیا گیا۔

پاکستان نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے بدھ کو یہ پیش کش کی تھی کہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے واقعہ کی تفتیش بھارت اور پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے آبزرور مشن سے کرائی جائے ’کیونکہ ہم کچھ چھپانا نہیں چاہتے' ہیں۔

جمعرات کو سکیورٹی سے متعلق کابینہ کی کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیر خزانہ پی چدامبرم نے کہا کہ’ ہم اس معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے یا اقوام متحدہ سے تفتیش کرانے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔ یہ مطالبہ ہم یکسر مسترد کرتے ہیں۔‘

ادھر امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے بتایا ہے کہ اعلیٰ سطح پر تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا ’اچھا ہوگا کہ دونوں ممالک معاملے کو خود ہی حل کرلیں اور اگر ایسا نہ ہوسکا اور معاملہ اقوامِ متحدہ تک گیا تب بھی امریکہ اس میں معاونت کرے گا۔‘

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے فوجی حکام ہاٹ لائن پر رابطے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ جاری کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’پاکستان نے چھ جنوری کے واقعے کی باضابطہ شکایت اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے کی ہے۔ مشن جتنا جلدی ممکن ہوا اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات شروع کرے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ جنوری کے واقعے کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے نہ تو پاکستان اور نہ ہی بھارتی فوج نے رابطہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر حالیہ خلاف ورزیوں کی اقوام متحدہ کے پاکستان بھارت میں مبصر مشن کے ذریعے تحقیقات کروانے کو تیار ہے۔

"پاکستان نے چھ جنوری کے واقعے کی باضابطہ شکایت اقوامِ متحدہ کے مبصر مشن سے کی ہے۔ مشن جتنا جلدی ممکن ہوا اپنے مینڈیٹ کے مطابق اس واقعے کی تحقاقات شروع کرے گا۔"

اقوام متحدہ

یاد رہے کہ چھ جنوری کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے باغ میں پاکستانی اور بھارتی افواج کے درمیان ایک چھڑپ میں ایک پاکستانی فوجی ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستانی افواج کے ترجمان ادارے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق بھارتی افواج نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باغ کے قریب حاجی پیر سیکٹر کے علاقے میں سواں پترا چوکی پر حملہ کیا۔

تاہم بھارتی فوج کے ایک ترجمان کرنل برجیش پانڈے کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی افواج نے بھارتی چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی اور مارٹر گولے پھینکے جن سے ایک سویلین مکان تباہ ہو گیا۔‘

اس واقعے کے بعد آٹھ جنوری کو بھارت نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوجیوں نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پار کر کے دو بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا۔ فوج کے ترجمان کرنل جے دہیا کے مطابق ایک فوجی کا سر قلم کیاگیا ہے۔

تاہم پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے بھارتی ہم منصب سے ہاٹ لائن پر گفتگو کی اور پاکستان لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور ایک بھارتی فوجی کی ہلاکت کے الزامات مسترد کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔