BBC navigation

’دو فوجی افسران کو شامل تفتیش نہیں کیا گیا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 دسمبر 2012 ,‭ 03:48 GMT 08:48 PST

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی ٹیم نے اُن دو فوجی افسران کو طلب ہی نہیں کیا جنہوں نے لیاقت باغ کے باہر ستائیس دسمبر سنہ دو ہزار سات کو خود کش حملے کے بعد اُس وقت کے راولپنڈی پولیس کے سربراہ ڈی آئی جی سعود عزیز کو مبینہ طور پر جائے حادثہ کو فوری طور پر دھونے سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں۔

اس تحقیقاتی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جن فوجی افسران سے راولپنڈی پولیس کے سابق سربراہ کی موبائل فون پر بات ہوئی تھی اُن کے نام کرنل توفیق اور میجر تصدق بتائے جاتے ہیں۔ تاہم اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دونوں فوجی افسران اُن دنوں کہاں تعینات تھے۔ اہلکار کے بقول ان افسران کو طلب کرنے کے لیے وزارت داخلہ کو بھی خط نہیں لکھا گیا۔

ڈی آئی جی سعود عزیز ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے اس موبائل فون کا تمام ریکارڈ ایف آئی اے کے حوالے کردیا تھا جو وقوعہ کے روز ان کے استعمال میں تھا۔

بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کے بقول ان فوجی افسران کو بھی طلب کیا جانا چاہیے تھا تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس قتل کے پیچھے کون سے ہاتھ کارفرما تھے۔

وفاقی حکومت نے بینظیر بھٹو کے مقدمے میں اشتہاری قرار دیے جانے والے ملزم اور سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی گرفتاری کے لیے دو مرتبہ انٹرپول کو خط لکھا ہے تاہم اس مقدمے کے سرکاری وکیل کے بقول انٹرپول کے حکام نے پاکستانی حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ انہوں نے پرویز مشرف سے رابطہ کیا ہے اور سابق صدر نے کہا ہےکہ ان کے خلاف یہ مقدمہ سیاسی رنجش کی بنا پر درج کیا گیا ہے اس کی وجہ سے انٹرپول نے پرویز مشرف کی گرفتاری میں معاونت کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے۔

پنجاب پولیس کی طرف سے بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی تفتیش میں پرویز مشرف اور سعود عزیز کی جانب انگلیاں نہیں اٹھائی گئی تھیں لیکن ایف آئی اے کی طرف سے کی جانے والی تفتیش میں بینظیر بھٹو کے قتل کی زیادہ تر ذمہ داری سابق فوجی صدر اور سعود عزیز پر ڈالی گئی ہے جبکہ باقی معاملات میں پنجاب پولیس کی تفتیش کو ہی آگے بڑھایا ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے کی جانے والی تفتیش میں بینظیر بھٹو کی طرف سے امریکی صحافی مارک سیگل کو 26 اکتوبر 2007 کو لکھی گئی ای میل کو بنیاد بنایا گیا ہے جس میں بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری پرویز مشرف پر عائد ہوگی۔

اس کےعلاوہ تفتیش میں سابق وزراء اعظم شوکت عزیز اور چوہدری شجاعت حسین کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے جبکہ بینظیر بھٹو کی سکیورٹی سے متعلق درخواست کو نظر انداز کرنے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

تفتیش میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سعود عزیزجو ستمبر 2007 میں پانچ اضلاع پر مشتمل ریجنل پولیس افسر گوجرانوالہ تعینات تھے کو اچانک کوئی وجہ بتائے بغیر ایک چھوٹے عہدے یعنی سٹی پولیس افسر راولپنڈی تعینات کر دیا گیا۔

نامکمل چالان

اس مقدمے کی تحقیقیات کی مد میں اب تک سات نامکمل چالان اس مقدمے کی سماعت کرنے والی راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایف آئی اے کی طرف سے پانچ جبکہ پنجاب پولیس کی طرف سے دو چالان پیش کیے گئے۔ ایف آئی اے کی طرف سے پیش کیے گئے چالان میں 139 سرکاری گواہوں کی فہرست بھی لگائی گئی ہے۔

بینظیر بھٹو کی سکیورٹی پر تعینات پولیس افسر کو ہٹانے اور لاش کا پوسٹمارٹم نہ کروانے کی ذمہ داری بھی تفتیشی ٹیم نے سعود عزیز پر ہی عائد کی ہے۔

اس مقدمے کی تحقیقات کی مد میں اب تک سات نامکمل چالان اس مقدمے کی سماعت کرنے والی راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایف آئی اے کی طرف سے پانچ جبکہ پنجاب پولیس کی طرف سے دو چالان پیش کیے گئے۔ ایف آئی اے کی طرف سے پیش کیے گئے چالان میں 139 سرکاری گواہوں کی فہرست بھی لگائی گئی ہے۔

اس فہرست میں انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ برگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ اور وزارت داخلہ کے نیشنل کرائسز مینجنمٹ سیل کے سابق سربراہ برگیڈئیر ریٹائرڈ جاوید اقبال بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اس مقدمے کے سرکاری وکیل کے بقول تفتیشی ٹیم کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد اگلے روز پریس کانفرنس کی منصوبہ بندی آرمی ہاؤس راولپنڈی میں تیار کی گئی تھی اور پنجاب حکومت سے رابطہ کیے بغیر اور تفتیشی ٹیم کے اعلان سے پہلے ہی پریس کانفرنس میں بینظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری تحریک طالبان کے سابق سربراہ بیت اللہ محسود پر عائد کردی گئی۔

ایف آئی اے کی ٹیم نے اگرچہ وفاقی وزراء رحمان ملک، مخدوم امین فہیم، بینظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکرٹری ناہید خان اور صفدر عباسی کے بیانات تو ریکارڈ کیے لیکن انہیں گواہوں میں شامل نہیں کیا حالانکہ یہ چاروں افراد جائے حادثہ پر موجود تھے۔ حملے کے وقت وزیر داخلہ رحمان ملک بینظیر بھٹو کی سکیورٹی کے مشیر بھی تھے۔

سابق وزیر اعظم کے قتل کے مقدمے میں اب تک پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان پانچ میں سے محمد رفاقت اور حسنین گل پر الزام ہے کہ انہوں نے بینظیر بھٹو پر خودکش حملہ آوروں بلال اور اکرام اللہ کو پناہ دی جبکہ شیر زمان، رشید احمد اور اعتزاز شاہ پر الزام ہے کہ انہیں بینظیر بھٹو کی قتل کی سازش کا علم تھا لیکن انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ نہیں کیا۔

سابق وزیر اعظم کے قتل کے مقدمے میں اب تک پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان پانچ میں سے محمد رفاقت اور حسنین گُل پر الزام ہے کہ اُنہوں نے بینظیر بھٹو پر خودکش حملہ آوروں بلال اور اکرام اللہ کو پناہ دی جبکہ شیر زمان، رشید احمد اور اعتزاز شاہ پر الزام ہے کہ اُنہیں بینظیر بھٹو کی قتل کی سازش کا علم تھا لیکن اُنہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ نہیں کیا۔

پرویز مشرف سمیت آٹھ افراد کو اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے جن میں تحریک طالبان کے سابق رہنما بیت اللہ محسود بھی شامل ہیں۔

پرویز مشرف سمیت آٹھ افراد کو اس مقدمے میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے جن میں تحریک طالبان کے سابق رہنما بیت اللہ محسود بھی شامل ہیں۔

تفتیشی ٹیم کے بقول بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش تیار کرنے والے اور دیگر ملزمان اکوڑہ خٹک میں مدرسہ حقیانیہ میں زیر تعلیم رہے جس کے بارے میں اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے پنجاب پولیس کی ٹیم نے مزکورہ مدرسہ کی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل اہلکار کے بقول اشتہاری قرار دیے جانے والوں میں سے پانچ افراد وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں مختلف واقعات کے دوران مارے گئے۔ ان میں قاری اسماعیل، نصراللہ، علی الرحمٰن، فیض محمد اور عبادالرحمٰن شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ حد تک اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے دو ملزمان رفاقت اور حسنین گُل کا اشتہاری قرار دیے جانے والے افراد کے ساتھ فارنزک رپورٹ سےتعلق ثابت ہوا ہے لیکن تفتیش کے دوران یہ بات ابھی تک ثابت نہیں ہوسکی کہ اس بینظیر بھٹو کی قتل کا ماسٹر مائنڈ کون تھا۔

اہلکار کے مطابق ان افراد کے پکڑے جانے کی صورت میں ہی پتہ چل سکتا تھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کا ماسٹر مائینڈ کون تھا۔ اشتہاری قرار دیے جانے والوں میں سےصرف قاری اسماعیل کی سرکاری طور پر ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ باقیوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کیسے ’مارے‘ گئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔