BBC navigation

’ڈرونز کے مخالف خودکش حملوں کے خلاف کیوں نہیں بولتے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 دسمبر 2012 ,‭ 11:59 GMT 16:59 PST

دہشت گردی کاخاتمہ سیاسی جماعتوں کی نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے اور یہ لڑائی نظام کی لڑائی ہے: اسفندیار ولی

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ ڈرون حملوں کی طرح پاکستانی سرزمین پر غیرملکی شدت پسندوں کی موجودگی بھی ملکی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔

منگل کو پشاور میں اپنی جماعت کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ڈرون حملے پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی ہیں اور یہ بھی صحیح ہے کہ ان حملوں میں بےگناہ افراد بھی مارے جاتے ہیں لیکن ان کا سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ڈرون حملوں کی مذمت کرنے والے لوگ ملک میں ہونے والے خودکش حملوں کی مذمت کیوں نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ ڈرون حملوں کے باعث فضائی خودمختاری کی خلاف ورزی کی بات کرتے ہیں لیکن غیر ملکی شدت پسندوں کی وجہ سے پاکستان کی زمینی خودمختاری کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اس پر کیوں نہیں بولتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ جو ہزاروں کی تعداد میں ازبک، تاجک، عرب آئے ہیں یہ ہماری سالمیت کی خلاف ورزی نہیں کر رہے اور اگر کر رہے ہیں تو ہم میں کیوں اتنی جرات نہیں کہ ہم ان کی مذمت کریں‘۔

انہوں نےیہ بھی کہا کہ ’خودکش حملہ آور جب آتا ہے اپنے آپ کو اڑاتا ہے اور بےگناہ لوگ مرتے ہیں، اس کی مذمت میں کیوں تحمل سے کام لے رہے ہیں۔ اگر اس(ڈرون حملوں) کو برا کہنا ہے تو اسے بھی برا کہنا ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔’نہ ہمارے بزرگوں نے کبھی سر جھکایا نہ ہم جھکائیں گے‘۔ خیال رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما اور خیبر پختونخوا کے سینیئر صوبائی وزیر بشیر بلور حال ہی میں خود کش حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

"خودکش حملہ آور جب آتا ہے اپنے آپ کو اڑاتا ہے اور بےگناہ لوگ مرتے ہیں، اس کی مذمت میں کیوں تحمل سے کام لے رہے ہیں۔ اگر اس(ڈرون حملوں) کو برا کہنا ہے تو اسے(خودکش حملوں کو) بھی برا کہنا ہوگا۔"

اسفندیار ولی

انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات خراب ہیں لیکن انتخابات کا التوا ملک کی تباہی اور بربادی کا باعث ہوگا۔

اسفندیار ولی نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ریاست کی رٹ تسلیم کرنے والوں اور تشدد ترک کرنے پر آمادہ عناصر سے بات چیت پر تیار ہے لیکن ریاست کی رٹ نہ ماننے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی ہوگی۔

اے این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کاخاتمہ سیاسی جماعتوں کی نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے اور یہ لڑائی نظام کی لڑائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اے این پی کے بعد خودکش حملے بند ہوجائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔ اسفندیار ولی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیچھے نہیں ہٹے گی لیکن دہشت گردی کا مقابلہ صرف ان کا کام نہیں یہ جنگ سب کی ہے۔

’ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو اس کے تدارک کے لیے واضح پالیسی بنانا ہوگی کیونکہ ریاست ہوگی تو سیاست ہوگی اور سیاست ہوگی تو سیاستدان بھی ہوگا‘۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔