ججوں کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 دسمبر 2012 ,‭ 05:10 GMT 10:10 PST

’دونوں ججوں کا تقرر بیس نومبر دو ہزار بارہ سے ہی تصور کیا جائے‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ججز تقرری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس شوکت صدیقی اور جسٹس نورالحق قریشی کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ حکم جسٹس خلجی عارف حسین کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے جمعہ کو صدر کی جانب سے ججوں کی تعیناتی سے متعلق نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے دیا۔

عدالت نے جسٹس شوکت صدیقی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں مستقل طور پر جج تعینات کرنے جبکہ جسٹس نور الحق کی بطور ایڈیشنل جج ہائی کورٹ مدتِ ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کا حکم دیا گیا ہے۔

تاہم اس فیصلے میں اس ریفرنس کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے جو کہ صدرِ پاکستان کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے آئینی تنازع پر سپریم کورٹ کی رائے لینے کے لیے دائر کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے جوڈیشل کمیشن نے بائیس اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعینات جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو مستقل کرنے اور جسٹس نور الحق کی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کی سفارش کی تھی۔

تاہم صدر کی طرف سے ان سفارشات کی روشنی میں دونوں ججز کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیے جانے کی وجہ سے وہ بیس نومبر کو مدتِ ملازمت ختم ہونے پر اپنے عہدوں سے الگ ہوگئے تھے۔

اب عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ان دونوں ججوں کا تقرر بیس نومبر دو ہزار بارہ سے ہی تصور کیا جائے۔

صدرِ پاکستان کی جانب سے ججوں کی تقرری کے بارے میں سپریم کورٹ کی رائے کے لیے دائر شدہ ریفرنس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا ہوا ہے۔

آئین کے آرٹیکل ایک سو چھیاسی کے تحت دائر کیے گئے اس ریفرنس میں اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی اور سنیارٹی کے بارے میں متعدد سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔