BBC navigation

ممبئی حملہ: ’آئی ایس آئی، سربراہان کو استثنیٰ حاصل ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 دسمبر 2012 ,‭ 00:02 GMT 05:02 PST

عدالت نے اس مقدمے میں آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا اور سابق سربراہ جنرل ندیم تاج کے نام سمن جاری کر کے انہیں عدالت میں طلب کیا تھا

امریکی ریاست نیو یارک کی عدالت میں سنہ دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں کے معاملے میں امریکی وزارت خارجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور اس کے سابق سربراہان کو اس مقدمے میں استثنیٰ حاصل ہے۔

یاد رہے کہ سنہ دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں کے معاملے میں بائیس دسمبر 2010 میں نیویارک میں بروکلین کی عدالت میں جاری ایک مقدمے کے سلسلے میں، پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ اور کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے کئی عہدیداروں کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیے گئے تھے۔

دوسری جانب بھارت کے دفترِ خارجہ کی جانب سے ایک بیان میں امریکی وزارت خارجہ کے اس موقف کو ایک ’بڑی مایوسی‘ قرار دیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق امریکی وزارت خارجہ نے عدالت میں حلفیہ بیان داخل کرایا ہے جس میں کہا ہے کہ پاکستان کو لشکرِ طیبہ کو ختم کرنا چاہیے اور شدت پسندوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بھارت کی مدد کرنی چاہیے۔

تاہم اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئی ایس آئی کو استثنیٰ حاصل ہے کیونکہ یہ ایک غیر ملکی ریاست کا حصہ ہے۔

بھارت نے بیان میں اس پیش رفت پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا یہ فیصلہ باعث تشویش ہے۔

’امریکی حکومت نے پاکستان میں موجود دہشت گردی کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے اور ممبئی حملوں میں شریک افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔‘

بیان میں بھارت کی حکومت نے مزید کہا ’ممبئی حملے کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانا اس کی اولین ترجیح ہے، اس سے قطع نظر کہ یہ افراد کہاں موجود ہیں اور کن جگہوں سے ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔‘

یاد رہے کہ بھارت نیو یارک میں دائر اس مقدمے میں فریق نہیں ہے۔

یہ مقدمہ امریکی قانون کے تحت دہشتگرد حملوں میں زخمی ہونے والے ایک امریکی شہری اور ان حملوں میں ہلاک ہونے والے چار امریکی شہریوں کے لواحقین نے دائر کیا تھا۔

کس کے نام سمن

نیو یارک کی عدالت نے پاکستانی فوج کے دو افسران میجر علی اور میجر اقبال کو بھی طلب کیا تھا۔ ان کے علاوہ جن افراد کے سمن جاری کیے گئے تھے ان میں لشکرِ طیبہ کے ذکی الرحمان لکھوی اور جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید بھی شامل تھے۔

عدالت نے اس مقدمے میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہان جنرل احمد شجاع پاشا اور جنرل ندیم تاج کے نام سمن جاری کر کے انہیں عدالت میں طلب کیا تھا۔

نیو یارک کی عدالت نے پاکستانی فوج کے دو افسران میجر علی اور میجر اقبال کو بھی طلب کیا تھا۔ ان کے علاوہ جن افراد کے سمن جاری کیے گئے تھے ان میں لشکرِ طیبہ کے ذکی الرحمان لکھوی اور جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید بھی شامل تھے۔

اس مقدمے میں آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کے افسران پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ممبئی حملوں کے لیے دہشتگردوں کو تربیت دی اور ان کی مدد کی۔ لشکر طیبہ کے عہدیداران پر بھی دہشتگردی میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ اس مقدمے کا ذکر اس وقت خبروں میں آیا تھا جب پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے ایک رہائشی نے ڈرون حملوں پر ان کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کریم خان نامی اس شخص نے اس سلسلے میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس، سی آئی اے کے سربراہ لیون ایڈورڈ پنیٹا اور اسلام آباد میں سی آئی اے کے انچارج جوناتھن بینکس کو قانونی نوٹس بھیجا تھا۔

اس نوٹس بھیجے جانے کے بعد اسلام آباد میں سی آئی اے کے انچارج جوناتھن بینکس کو واپس امریکہ بلا لیا گیا تھا اور امریکی حکام نے ان کی روانگی کی وجہ ان کی زندگی کو لاحق خطرات بتائے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔