پولیو ٹیموں پر حملے، پنجاب میں پولیس تعینات کرنے کا فیصلہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 دسمبر 2012 ,‭ 20:06 GMT 01:06 PST

یہ کراچی میں پولیو مہم سے وابستہ افراد کو نشانہ بنائے جانے کا پہلا موقع نہیں

پاکستان کے شہر کراچی اور پشاور میں پولیو ٹیموں پر حملوں میں پانچ خواتین اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد حکومتِ پنجاب نے قطرے پلانے والی ٹیموں کے ساتھ پولیس اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبائی سیکیٹری صحت کیپٹن ریٹائرڈ عارف ندیم نے صوبے کے مختلف اضلاع کے ضلعی رابطہ آفیسر کو ٹیلی فون پر رابطہ کیا کہ حساس علاقوں میں پولیو ٹیم کے ساتھ پولیس اہلکار تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔

محکمہ صحت پنجاب کے مطابق صوبائی سیکریٹری صحت نے جن اضلاع کی انتظامیہ کو حفاظتی انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے ان میں راولپنڈی، ڈیرہ غازی خان ، اٹک، میانوالی اور راجن پور شامل ہیں۔

خیال رہے پنجاب میں پولیو سے بچاؤ کے لیے قطرے پلانے کی تین روزہ مہم کا بدھ کو آخری دن ہے۔

یاد رہے کہ منگل کو کراچی اور پشاور میں پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کے دوران پولیو ٹیموں پر حملوں میں پانچ خواتین اہلکار ہلاک اور چار اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستان میں سترہ سے انیس دسمبر تک سال کی آخری پولیو مہم منعقد ہو رہی ہے۔

سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایک منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں۔

اس سے قبل بھی

رواں برس جولائی میں کراچی ہی کے علاقے سہراب گوٹھ کی کچی آبادی مچھر کالونی میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانے کی مہم میں شامل اقوام متحدہ کی گاڑی پر فائرنگ سے ایک غیر ملکی ڈاکٹر ڈیڈو فاسٹن اور ان کے پاکستانی ڈرائیور زخمی ہوئے تھے۔

پولیس کے ترجمان عمران جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک منظم کوشش تھی جس میں پندرہ منٹ کے اندر شہر کے مختلف علاقوں میں حملے کیے گئے ہیں۔

شہر کے مضافاتی علاقوں میں یہ واقعات پیش آئے ہیں، جہاں زیادہ تر دیگر صوبوں سے آنے والے لوگوں کی کچی آبادیاں ہیں۔

پولیس کے مطابق پہلا واقعہ گلشن بونیئر میں پیش آیا جہاں مدیحہ اور فہمیدہ فائرنگ میں ہلاک ہوئیں۔

پولیس کے مطابق جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں تنگ گلیاں ہیں جہاں گاڑی نہیں جا سکتی ہیں اور حملہ آور پیدل آئے تھے۔

اورنگی ٹاؤن اقبال مارکیٹ کے علاقے توری بنگش میں دوسرا واقعہ پیش آیا جہاں، فائرنگ میں مسمات نسیم اختر ہلاک اور اسرار زخمی ہوگیا۔

اتحاد ٹاؤن کے علاقے موچکو میں مسمات کنیزہ ہلاک جبکہ ان کے ایک مرد ساتھی زخمی ہوگئے، چوتھے واقعے میں اتحاد ٹاؤن محمد خان کالونی میں فائرنگ میں مسمات شاہدہ اور ان کے ساتھی کامران زخمی ہوگئے ہیں۔

کراچی پولیس کے مطابق منگل کی صبح بلدیہ ٹاؤن، لانڈھی اور کورنگی کے علاقے میں قطرے پلانے کے لیے جانے والی ٹیموں پر فائرنگ کی گئی۔

کراچی پولیس کے مطابق پولیو ٹیموں پر حملوں کا سلسلہ پیر کی رات شروع ہوا جب سہراب گوٹھ میں ایک اہلکار کو ہلاک کر دیا گیا۔

صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر صغیر احمد نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سندھ کو پولیو سے پاک صوبہ بنانے سے روکنے کی سازش ہے۔

کراچی میں لیڈی ہیلتھ ورکر ایسوسی ایشن کی فرزانہ بلوچ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بعد قطرے پلانے کی مہم روک دی گئی ہے اور تمام ٹیموں کو واپس بلا لیا گیا ہے۔

کراچی میں حکام کے مطابق پولیو ٹیموں پر حملوں کا سلسلہ پیر کی رات شروع ہوا تھا

اطلاعات کے مطابق ان حملوں کے بعد کراچی میں عالمی ادارۂ صحت کا دفتر بھی بند کر دیا گیا ہے۔

ادھر پشاور میں یونین کونسل ڈاگ کے علاقے میں نامعلوم موٹرسائیکل سوار حملہ آوروں نے پولیو کے قطرے پلانے والی ایک رضاکار پر فائرنگ کی جس سے وہ شدید زخمی ہوگئیں اور ہسپتال میں دم توڑ گئیں۔

پولیس کے مطابق زخمی ہونے والی خاتون کے سر میں گولی لگی تھی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں پولیو مہم سے وابستہ افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

رواں برس جولائی میں کراچی ہی کے علاقے سہراب گوٹھ کی کچی آبادی مچھر کالونی میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جانے کی مہم میں شامل اقوام متحدہ کی گاڑی پر فائرنگ سے ایک غیر ملکی ڈاکٹر ڈیڈو فاسٹن اور ان کے پاکستانی ڈرائیور زخمی ہوئے تھے۔

اس واقعے کے تین دن بعد اسی علاقے کی ایک مضافاتی بستی جونیجو کالونی میں عالمی ادارۂ صحت کے لیے کام کرنے والے اسحٰق نور نامی شخص کو نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔