’پاکستان میں دو دہائیوں میں 66 صحافی ہلاک‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 دسمبر 2012 ,‭ 23:39 GMT 04:39 PST

رپورٹ کے مطابق پچھلی دو دہائیوں میں دنیا بھر میں 962 صحافی ہلاک ہوئے

صحافیوں کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کا کہنا ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں 67 صحافی ہلاک ہوئے اور سب سے زیادہ ہلاکتیں شورش زدہ ملک شام میں ہوئیں۔

عالمی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صحافیوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے شام سرِفہرست رہا جبکہ صومالیہ دوسرے اور پاکستان تیسرے نمبر پر رہا۔

کلِک کیا سلیم شہزاد قتل کو بھلا دیا گیا ہے؟

کلِک ’پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک‘

کلِک ہدایت نامہ برائے صحافی برادری

کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صومالیہ میں رواں سال بارہ صحافی جبکہ پاکستان میں سات صحافی ہلاک ہوئے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پچھلی دو دہائیوں میں دنیا بھر میں 962 صحافی ہلاک ہوئے۔

بیس سالوں میں صحافیوں کی ہلاکت کے حوالے سے بدترین ملک عراق رہا ہے جہاں 151 صحافی ہلاک ہوئے۔ اس فہرست میں صومالیہ اور پاکستان میں 48 صحافی ہلاک ہوئے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال میں 67 صحافیوں کی ہلاکت کے محرکات کے بارے میں معلومات ہیں۔ رپورٹ کے بقول یہ 67 صحافی وہ ہیں جو اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ہلاک ہوئے۔ تاہم کمیٹی تیس ایسے صحافیوں کی ہلاکت کے بارے میں بھت معلمات کر رہی ہے جن کی ہلاکت کے محرکات کا تعین کرنا ابھی باقی ہے۔

پاکستان

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رپورٹ کے مطابق بیس سالوں میں 48 صحافی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ہلاک ہوئے جبکہ پندرہ صحافی ایسے ہیں جن کی ہلاکت کے محرکات کے بارے میں معلوم نہیں ہے کہ آیا وہ ڈیوٹی کرتے ہوئے ہلاک ہوئے یا کسی ذاتی دشمنی کا کا نشانہ بنے۔

دو ہزار بارہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2012 میں سات صحافی جن کی ہلاکت کے محرکات معلوم ہیں ان کے نام یہ ہیں:

  • کراچی، 22 نومبر 2012: امت اخبار کے ثاقب خان
  • پنجگور بلوچستان، 18 نومبر 2012: دنیا نیوز ٹی چینل اور انتخاب اخبار کے رحمت اللہ عابد
  • خیرپور سندھ، 7 اکتوبر 2012: دھرتی ٹی وی چینل اور مہران کے مشتاق خند
  • خضدار بلوچستان، 29 ستمبر 2012: اے آر وائی ٹی وی چینل کے عبدالحق بلوچ
  • کوئٹہ، 28 مئی 2012: وش ٹی وی چینل کے عبدالقادر حاجی زئی
  • تربت بلوچستان، 19 مئی 2012: ایکسپریس نیوز ٹی وی چینل کے رزاق گل
  • شبقدر، خیبر پختونخوا، 17 جنوری 2012: فری لانسر مکرم خان عاطف

ان صحافیوں کے علاوہ تین ایسے افراد بھی بیس سالوں میں ہلاک ہوئے جن کا تعلق کسی میڈیا کے دفتر سے تو ہے لیکن وہ صحافی کی کیٹیگری میں نہیں آتے۔ ان میں نجی ٹی وی کا ایک اہلکار، ایک ڈرائیور اور پشاور پریس کلب کا ایک اہلکار شامل ہیں۔

بیس سالوں میں پاکستان میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کے بارے میں مزید تفصیلات دیتے ہوئے اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے صحافیوں میں سے 58 فیصد صحافی سیاسی امور پر رپورٹنگ کرتے تھے، 42 فیصد مسلح تصادم کی، اکیس فیصد کرائم، پندرہ فیصد بدعنوانی اور دس فیصد انسانی حقوق کی رپورٹنگ کرتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق58 فیصد صحافیوں کا تعلق پرنٹ میڈیا سے تھا جبکہ ٹی وی سے وابستہ 46 فیصد اور انٹرنیٹ سے آٹھ فیصد اور ریڈیو سے دو فیصد۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ہلاک ہونے والے چالیس فیصد صحافی اخبارات کے رپورٹر تھے، پینتیس فیصد براڈکاسٹ رپورٹر جبکہ پندرہ فیصد فوٹوگرافر تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔