BBC navigation

توہینِ رسالت: امریکی شہری کا جسمانی ریمانڈ

آخری وقت اشاعت:  پير 10 دسمبر 2012 ,‭ 11:51 GMT 16:51 PST

چند ماہ پہلے اسلام آباد ہی میں مسیحی لڑکی رمشا کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ دائر کیا گیا تھا

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے پاکستانی نژاد امریکی شہری کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

اسلام آباد پولیس نے مبینہ طور پر توہین رسالت کا مرتکب ہونے پر ڈاکٹر افتخار کے خلاف اتوار کو توہین مذہب کا مقدمہ درج کر کے اُنہیں گرفتار کر لیا تھا اور تفتیش کے سلسلے میں اُنھیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

ملزم کو پیر کو انتہائی سخت حفاظتی اقدامات میں مقامی عدالت میں پیش کیا گیا۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم سے اس مقدمے کے متعدد پہلوؤں پر تفتیش کرنی ہے لہٰذا ملزم کو سات روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا جائے تاہم عدالت کے جج نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ڈاکٹر افتخار سے ابھی پیغمبرِ اسلام کے بارے میں لکھا گیا مواد برآمد کرنا ہے جو کہ پولیس کے بقول توہین مذہب کے دائرے میں آتا ہے۔

عدالت نے ملزم ڈاکٹر افتخار کو چار دن کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ اب انہیں چودہ دسمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اتوار کو تھانہ آئی نائن سرکل کے سب ڈویژنل پولیس افسر ڈی ایس پی اشرف شاہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ملزم ڈاکٹر افتخار نے ’رتبۂ رسول‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جس میں پولیس کے بقول ایسے الفاظ درج تھے جو پیغمبرِ اسلام کی شان کے خلاف تھے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ اس کتاب کے اشاعت اور اس میں لکھے گئے الفاظ کے خلاف لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اُنہوں نے آئی جے پرنسپل روڈ بھی بلاک کردی تھی جس کی وجہ سے ٹریفک میں بھی خلل پڑا تھا۔

"ملزم ڈاکٹر افتخار کے خلاف مقدمہ کسی سرکاری اہلکار نے نہیں بلکہ ملزم کے بھتیجے نے درج کروایا ہے۔"

پولیس

مقامی پولیس کے بقول اس صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا جنھوں نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم جاری کردیا۔

ملزم ڈاکٹر افتخار کے خلاف مقدمہ کسی سرکاری اہلکار کی طرف سے درج نہیں کروایا گیا۔ متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او لعل دین کے مطابق اس مقدمے کا مدعی محمد عثمان ملزم کا بھتیجا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ڈاکٹر افتخار خاصے عرصے سے امریکہ میں مقیم رہے ہیں اور اُنھوں نے کمیسٹری میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ توہین مذہب کے قانون کی دفعہ دو سو پچانونے سی کے تحت درج کیا گیا ہے جس کی سزا موت ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم گُذشتہ پانچ سال سے پاکستان میں مقیم ہیں اور اس عرصے کے دوران ہی اُنہوں نے کتاب لکھی ہے۔

یاد رہے کہ چند ماہ کے دوران اسلام آباد میں توہینِ مذہب کا دوسرا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے عیسائی لڑکی رمشاء مسیح کے خلاف بھی توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا تاہم عدالت نے پہلے تو رمشاء مسیح کی ضمانت منظور کی اور پھر اُس کا نام اس مقدمے سے خارج کردیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔