BBC navigation

لال مسجد پر عدالتی کمیشن کی تشکیل

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 دسمبر 2012 ,‭ 14:15 GMT 19:15 PST

سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے دور میں لال مسجد آپریشن کیا گیا تھا

سپریم کورٹ نے منگل کو پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے دور میں اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں کیے جانے والے فوجی آپریشن سے متعلق تحقیقات کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا ہے۔

عدالت نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کمیشن کتنے عرصے میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گا۔

وفاقی شرعی عدالت کے جج جسٹس شہزاد شیخ کی سربراہی میں قائم ہونے والا ایک رکنی عدالتی کمیشن چھ نکات سے متعلق تحقیقات کرے گا جن میں لال مسجد آپریشن کی وجوہات، اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے مرد، خواتین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تعداد اور ان کی لاشیں شناخت کرنے کے حوالے سے بھی تحقیقات ہوں گی۔

یہ عدالتی کمیشن اس بات کی بھی تحقیق کرے گا کہ کیا ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں ورثا کے حوالے کی گئیں اور ہلاک ہونے والے افراد کے ورثا کو معاوضے کی رقم ادا کی گئی یا نہیں اور کیا آپریشن کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوئی۔

"اگر کوئی شخص قانون ہاتھ میں لے تو اس کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اسے جان سے ہی مار دو۔ قالین کے نیچے حقائق چھپانے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔"

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کو لال مسجد آپریشن کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔

اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل آف پولیس طاہر عالم نے عدالت میں رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے تیرہ افراد اور پانچ راہگیروں کے ورثا کو مالی معاونت دینے کی سفارش کی ہے جبکہ ہلاک ہونے والے دیگر افراد شدت پسند تھے۔

چیف جسٹس نے پولیس افسر سے استفسار کیا کہ کیا ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن کی بناء پر وہ دیگر ہلاک ہونے والوں کو شدت پسند کہہ رہے ہیں جس کا مذکورہ افسر کوئی جواب نہیں دے سکے۔

طاہر عالم کا کہنا تھا کہ اس وقت کی حکومت نے لال مسجد کی انتظامیہ کو مسجد خالی کرنے کے بارے میں کہا تھا لیکن انتظامیہ نے حکومت کی عمل داری کو چیلنج کرتے ہوئے ہتھیار اٹھالیے تھے۔

پولیس رپورٹ

اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ انسپکٹر جنرل آف پولیس طاہر عالم نے عدالت میں رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے اس آپریشن میں ہلاک ہونے والے تیرہ افراد اور پانچ راہگیروں کے ورثا کو مالی معاونت دینے کی سفارش کی ہے جبکہ ہلاک ہونے والے دیگر افراد شدت پسند تھے۔

بینچ میں موجود شیخ عظمت سعید نے پولیس افسر سے استفسار کیا کہ کیا اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت ہوئی ہے اور کیا ان افراد کے خلاف کسی بھی تھانے میں کوئی مقدمہ درج تھا؟ پولیس افسر اس سے متعلق بھی عدالت کو مطمئن نہ کرسکے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص قانون ہاتھ میں لے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اسے جان سے ہی مار دو۔ انہوں نے کہا کہ قالین کے نیچے حقائق چھپانے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔

یاد رہے پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے لال مسجد آپریشن کیا تھا جس میں حکومت کے بقول شدت پسندوں نے پناہ لی ہوئی تھی اور اس آپریشن میں ایک سو تین افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں سیکیورٹی فورسز کے گیارہ اہلکار بھی شامل تھے۔

اس وقت کی حکومت کا کہنا تھا کہ اس فوجی کارروائی کے دوران کوئی عورت ہلاک نہیں ہوئی جبکہ لال مسجد کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے دوران لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی والدہ سمیت متعدد طالبات بھی ہلاک ہوئی تھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔