BBC navigation

’اب مردے بھی خطرہ بن گئے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 دسمبر 2012 ,‭ 20:16 GMT 01:16 PST

پاکستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جہاں گزشتہ دنوں کراچی میں ایک ہندو مندر منہدم کر دیا گیا تو وہیں ملک بھر میں شیعہ افراد پر مسلسل حملے جاری ہیں۔

حال ہی میں کراچی میں ایک بچی مہذر زہرہ اور ان کے والد پر حملہ ہوا جس میں مہذر شدید زخمی ہو گئیں اور ابھی تک وہ اپنی زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔
اسی طرح پیر کی صبح کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک مدرسے کے استاد مولانا محمد اسماعیل ہلاک ہوگئے اور لاہور میں اسی نوعیت کا ایک حملہ ہوا اور اس بار نشانہ احمدیہ فرقےکا قبرستان تھا۔
نامعلوم افراد نے قبرستان میں داخل ہو کر سو سے زائد قبروں کی بے حرمتی کی اور بہت سوں کے کتبے اکھاڑ دیے۔

انسانی حقوق کمیشن نے احمدیوں کے قبرستان پر حملے کی اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک سوچا سمجھا حملہ ہے جس میں ملوث افراد کی نشاندہی حکام کے لیے مشکل نہیں ہونی چاہئے۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر ہندو مندر کے انہدام کا معاملہ سب سے پہلے اٹھایا گیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر سرگرمی سے ٹویٹس اور کمنٹس کا سلسلہ جاری رہا۔

اس کے بعد مہذر زہرہ پر حملے کے نتیجے میں ٹوئٹر پر علی ناطق اور علی عباس تاج نے نے ایک ہیش ٹیگ مہم چلائی۔

"ان کی بیٹی تو اپنے والد کے ساتھ صرف سکول تعلیم حاصل کرنے جا رہی تھی۔ اس کا کیا قصور تھا اور اس نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔ اس ملک میں اب ہم کیا کریں ہمارا تو کوئی دشمن بھی نہیں ہے۔"

مہذر کی والدہ

مہذر کی والدہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ان کی بیٹی تو اپنے والد کے ساتھ صرف سکول تعلیم حاصل کرنے جا رہی تھی۔ اس کا کیا قصور تھا اور اس نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔ اس ملک میں اب ہم کیا کریں ہمارا تو کوئی دشمن بھی نہیں ہے۔‘

حارث ضیاء نے ٹویٹ کی کہ شیعہ قتل عام اور احمدی استحصال اس ملک کے اخلاقی لحاظ سے پسماندہ ہونے کی علامات ہیں۔

سید وقار عباس نے ٹویٹ کی کہ شیعہ کا قتل عام بند کریں اور پاکستان کو پر امن بنائیں۔

عائشہ عباس نے ٹویٹ کی کہ اگر آپ آج احمدیوں اور شیعہ کے قتل عام پر نہیں بولیں گے تو آپ اس میں برابر کے شریک ہیں۔

سوموار کی صبح احمدیوں کے قبرستان پر حملے کی خبر آتے ہی سوشل میڈیا ایک بار پھر سے جاگ اٹھا اور اس پر ٹویٹس اور تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی صحافی رابعہ محمود نے، جو اسی سڑک پر رہتی ہیں جس پر یہ قبرستان واقع ہے، سب سے پہلے اس پر ٹویٹ کی جس کے بعد اس پر تبصروں اور گفتگو کا سلسہ شروع ہوا۔

یوسف چنگیزی نے ٹویٹ کی کہ ’احمدیوں کی قبروں کی بے حرمتی، اب مردے بھی خطرہ بن گئے ہیں۔‘

"مسئلہ یہ ہے کہ امن کے ساتھ اکٹھے رہنے کے لیے بدلنے کی ضرورت ہے۔ دونوں جانب کی حفاظت باہمی عزت اور رواداری اور ایک دوسرے کے خلاف عدم تشدد میں ہے۔ میرے خیال میں بیرونی ہاتھوں پر الزام عائد کرنے کی بجائے لوگوں کو آپس میں اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔"

عاشق رضا بی بی سی کے فیس بک صفحے پر

عباس ناصر نے لندن سے ٹویٹ کی کہ ’کوئی کیا کہے اب اس پر، یہ ناقابل بیان ہے اور افسوسناک ہے۔‘

بلال حیدر نے ٹویٹ کی کہ ’میں صرف امید کر سکتا ہوں کہ اس قوم میں کوئی احساس پیدا ہو، جو کہ اس کا خاصہ تھا۔‘

قاسم رشید نے ٹویٹ کی کہ ’اچھی خبر یہ ہے کہ اس حملے کے بعد اب اسلام محفوظ ہو گیا ہے۔‘

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان کے ڈائریکٹر علی دایان حسن نے ٹویٹ کی کہ ’پاکستان میں ایک اور دن جب ایک توہین مذہب کا ملزم حراست میں ہلاک، ہندو مندر منہدم اور احمدیوں کی قبروں پر حملہ۔‘

جہاں سوشل میڈیا پر ایک دنیا اس معاملے پر گفت و شنید میں مصروف تھی، وہیں پاکستانی میڈیا اور اخبارات اس معاملے پر عمومی طور پر چپ سادھے بیٹھے رہے۔

عظمیٰ گل نے بی بی سی کے فیس بک صفحے پر لکھا ’ کلیسا جلائے، مندروں کو تباہ کیا، ہندووں کو بھگایا، سکھوں کو لوٹا، قادیانیوں کا سماجی بائیکاٹ کیا۔ جب زندوں کو تباہ کر کے دل کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی تو اب مردوں کی بے حرمتی شروع۔‘

نصیر احمد نے فیس بک پر لکھا کہ ’یہ جو امن تباہ کر رہے ہیں یہ غیر ملکی ایجنٹس ہیں اور ایک منصوبے کے مطابق کر رہے ہیں، تمام پاکستانیوں سے عرض ہے کہ آپس میں الزام نہ لگائیں یہ ایک تیسری قوت ہے جو پاکستان کو تباہ کرنا چاہتی ہے سب اس کو پہچانیں۔‘

اس ساری صورتحال پر عاشق رضا نے فیس بک پر لکھ کر مسئلے کی بنیاد کی طرف اشارہ کیا کہ مسئلہ یہ ہے کہ امن کے ساتھ اکٹھے رہنے کے لیے بدلنے کی ضرورت ہے۔ دونوں جانب کی حفاظت باہمی عزت اور رواداری اور ایک دوسرے کے خلاف عدم تشدد میں ہے۔ میرے خیال میں بیرونی ہاتھوں پر الزام عائد کرنے کی بجائے لوگوں کو آپس میں اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘

احمد شعیب نے اس ساری صورتحال پر سوال کیا ’کیا قرآن میں کہیں ارشاد ہوا ہے کہ ’اے ایمان والو زمین میں پھیل جاؤ اور احمدیوں کی قبروں کو تباہ کردو‘ اگر نہیں تو یہ کونسی اسلام کی خدمت ہے؟ اور اس ساری صورتحال پر انہوں نے لکھا کہ ’جو کربلا ہر روز پاکستانی ملا ملک میں برپا کر رہے ہیں اس کا نوحہ کون لکھے گا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔