BBC navigation

کراچی: مدرسہ کے استاد ہلاک، صورتحال کشیدہ

آخری وقت اشاعت:  پير 3 دسمبر 2012 ,‭ 08:24 GMT 13:24 PST

مشتعل افراد نے گلشن چورنگی، نیپا، ابوالحسن اصفہانی روڈ اور راشد منہاس روڈ پر گاڑیوں پر پتھراؤ کیا

کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں پیر کی صبح نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک مدرسے کے استاد مولانا محمد اسماعیل ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد علاقے میں امن و امان کی صورتحال بگڑ گئی ہے۔

گلشنِ اقبال میں ایک مشتعل ہجوم نے پانچ گاڑیوں کو نذرِآتش کردیا جبکہ گاڑیوں پر پتھراؤ کر کے سڑکیں بلاک کردیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مولانا محمد اسماعیل مدرسہ احسن العلوم کے استاد تھے اور وہ گلشنِ اقبال کے بلاک دو میں رہائش پذیر تھے۔ پیر کی صبح جب وہ اپنی رہائش گاہ کے قریب ہی واقع مدرسے جا رہے تھے تو مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کردی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کراچی کے امیر قاری عثمان نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا محمد اسماعیل مدرسہ احسن العلوم میں استاد الحدیث تھے اور وہ گزشتہ پندرہ برس سے درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے۔

انہوں نے کہا کہ محمد اسماعیل نے تعلیم بھی مدرسہ احسن العلوم سے حاصل کی تھی اور وہ اِسی مدرسے کے فارغ التحصیل تھے۔

انہوں نے مولانا اسماعیل پر حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور اسے دہشت گردی قرار دیا۔

مولانا اسماعیل پر حملے کی ذمہ داری اب تک کسی جماعت یا گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔

مولانا اسماعیل کی ہلاکت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح شہر میں پھیل گئی اور علاقے کے لوگ مشتعل ہوگئے۔ مشتعل افراد نے گلشن چورنگی، نیپا، ابوالحسن اصفہانی روڈ اور راشد منہاس روڈ پر گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جبکہ پانچ گاڑیوں کو نذرآتش کردیا اور کئی جگہ ٹائر جلائے۔

یاد رہے کہ مولانا اسماعیل اُسی مدرسے میں استاد تھے جس مدرسے کے طالبعلموں پر چند روز پہلے اس وقت جب وہ مدرسے کے قریب ایک چائے کے ہوٹل میں جمع تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں سات طالبعلم ہلاک ہوگئے تھے۔

دوسری طرف امریکہ میں جماعت احمدیہ کے ایک اہم مبلغ مربی امام سید شمشاد احمد ناصر نے بی بی سی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی مذہب و عقیدہ قبروں کی بے حرمتی اور حملوں کی اجازت نہیں دیتا جبکہ جماعت احمدیہ کے قبرستانوں پر حملے کوئي غیر ملکی طاقت یا غیر مسلموں کا کام نہیں بلکہ مقامی مذہبی شدت پسندی ،تشدد اور امتیازی سلوک ہیں جو گذشتہ چار دہائيوں سے جماعت احمدیہ کے خلاف تمام چھوٹ کے ساتھ پاکستان میں جاری و ساری ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔