احمدیوں کی قبروں کے کتبوں کی توڑ پھوڑ

آخری وقت اشاعت:  پير 3 دسمبر 2012 ,‭ 17:04 GMT 22:04 PST

پاکستان کے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جماعت احمدیہ کے قبرستان میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک سو سے زائد قبروں کے کتبوں کو توڑ دیا ہے یا گرا دیا ہے۔

جماعت احمدیہ نے قبروں کے کتبوں کو گرانے کے واقعہ پر مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست دی تاہم پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔

یہ کارروائی اتوار کی رات لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں واقع جماعت احمدیہ کے قبرستان میں کی گئی جہاں ایک سو بیس قبروں کے کتبوں کو توڑ ا یا گرایا گیا۔

قبرستان کے سیکورٹی اہلکار کے مطابق دس سے پندرہ نقاب پوش مسلح افراد قبرستان میں داخل ہوئے جنہوں نے وہاں موجود سیکورٹی اہلکار اور گورکن کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

سیکورٹی اہلکار نے بتایا کہ نقاب پوش افراد نے اوزاروں سے مختلف قبروں کے کتبوں کو توڑ اور وہاں سے فرار ہوگئے۔

اس سے پہلے پنجاب کے علاقے دنیا پور میں جماعت احمدیہ کے قبرستان میں نامعلوم افراد نے قبروں کی بے حرمتی کی تھی جبکہ فیصل آباد اور حافظ آباد میں بھی جماعت احمدیہ کے قبرستان میں مقامی پولیس نے ان قبروں کے کتبوں کو مسمار کردیا تھا جن پر پرقرآنی آیات لکھیں تھیں۔

کون سا مذہب

ایک احمدی نے اپنے رشتہ دار کی قبر کی بے حرمتی پر یہ سوال اٹھایا کہ کونسا مذہب ہے جو مردوں اور قبروں کی توہین کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ان کے بقول ہم کمزور لوگ ہیں اور ہم اس طرح کی کارروائی کا جواب اسی انداز سے نہیں دے سکتے۔ جماعت احمدیہ نے ہمیشہ صبر کی تقلین کی ہے۔

لاہور میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے اور جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل فہم قرار دیا۔

ترجمان نے پولیس کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ آئین کے تحت انتظامیہ انسانی حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے۔

جماعت احمدیہ کے ایک رکن نے بتایا کہ سنہ انیس سو اسی میں ماڈل ٹاؤن سوسائٹی نے احمدیوں کو یہ اراضی دی تھی جس پر قبرستان قائم کیا گیا اور اس میں سات سو پچاس کے قریب قبریں ہیں۔

جماعت احمدیہ کے مطابق قبرستان کے ارگرد چار دیواری ہے اور مرکزی گیٹ نمایاں طور پر جماعت احمدیہ کا قبرستان درج ہے۔

ترجمان جماعت احمدیہ پاکستان نے پولیس کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ آئین کے تحت انتظامیہ انسانی حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ایک احمدی نے اپنے رشتہ دار کی قبر کی بے حرمتی پر یہ سوال اٹھایا کہ کونسا مذہب ہے جو مردوں اور قبروں کی توہین کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ان کے بقول ہم کمزور لوگ ہیں اور ہم اس طرح کی کارروائی کا جواب اسی انداز سے نہیں دے سکتے۔ جماعت احمدیہ نے ہمیشہ صبر کی تقلین کی ہے۔

ادھر انسانی حقوق کمیشن نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن کے بیان میں کہا کہ اگرچہ حملہ آور نقاب پوش تھے تاہم ان کی شاخت زیادہ پوشیدہ نہیں تھی۔

خیال رہے کہ پاکستان میں پارلیمان نے ایک آئینی ترمیم کے تحت جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دیا تھا اور بعدازں سابق فوجی صدر جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں اینٹی احمدی آرڈیننس جاری کیا جس کے مطابق احمدیوں کے لیے سرعام کلمہ پڑھنا، نماز ادا کرنا، اپنی عبادت گاہوں اور قبروں پر قرآنی آیات لکھنا جرم ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔