BBC navigation

وانا: محسود قبائل کو علاقہ چھوڑنے کا حکم

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 دسمبر 2012 ,‭ 17:11 GMT 22:11 PST

ملا نذیر خودکش حملے میں زخمی ہوئے تھے

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کی تحصیل وانا میں جرگے نے محسود قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کو پانچ دسمبر تک علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

یہ فیصلہ مقامی طالبان کمانڈر ملا نذیر پر ہونے والے قاتلانہ خودکش حملے کے بعد کیا گیا ہے۔ احمد زئی وزیر قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملا نذیر اس حملے میں زخمی جبکہ چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سنیچر کو وانا بازار میں مقامی وزیر قبائل کے جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ علاقے میں مقیم محسود قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کو چار دن میں یہ علاقہ خالی کرنا ہوگا۔

جرگے کے فیصلے کے مطابق پانچ دسمبر کے بعد اگر وزیر قبائل کے کسی فرد نے کسی نقل مکانی کرنے والے یا شدت پسند محسود قبائلی کو پناہ دی تو اسے دس لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

جرگے نے حکومت سے بھی کہا ہے کہ وہ سرکاری زمین یا عمارات میں مقیم محسود قبائلیوں کو ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل علاقے سے نکل جانے کو کہے۔

وزیر قبائل کی جانب سے ملا نذیر پر ہونے والے حملے میں محسود قبائل کے ارکان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں مقامی انتظامیہ نے بھی یہ امکان ظاہر کیا تھا کہ اس کارروائی میں محسود قبیلے کے لوگ ملوث ہو سکتے ہیں۔

ملا نذیر کا شمالی وزیرستان میں سرگرم حافظ گل بہادر گروپ اور شوریٰ اتحاد المجاہدین سے قریبی تعلق ہے اور انہیں پاکستان کے حامی طالبان میں شمار کیا جاتا ہے۔

سنہ دو ہزار آٹھ میں وانا میں ان کی سربراہی میں وزیر قبیلے نے سکیورٹی فورسز کی معاونت سے وہاں موجود ازبک جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کیا تھا جس کے بعد حکومت اور طالبان کا امن معاہدہ عمل میں آیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔