ڈاکٹر شکیل آفریدی کی جیل میں بھوک ہڑتال

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 29 نومبر 2012 ,‭ 12:24 GMT 17:24 PST

پاکستان میں اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے میں امریکہ کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار ڈاکٹر شکیل افریدی جیل میں بھوک ہڑتال پر ہیں

پاکستان میں اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے میں امریکہ کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار ڈاکٹر شکیل آفریدی جیل میں بھوک ہڑتال پر ہیں۔

بی بی سی کے ذرائع نے جس میں ڈاکٹر شکیل افریدی کے رشتہ دار بھی شامل ، بتایا ہے کہ شکیل آفریدی نے جیل میں بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔

اطلاعات کے مطابق انہوں نے جیل میں خراب ماحول کے خلاف احتجاج کے طور پر بھوک ہڑتال کی ہے۔ وہ قید تنہائی کاٹ رہے ہیں۔

تاہم جیل کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ انہیں ڈاکٹر شکیل کے بھوک ہڑتال کا علم نہیں اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بھائی جمیل نے کا کہنا ہے کہ انہیں جیل ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے بھائی نے ایک ہفتہ پہلے پشاور سنٹرل جیل میں بھوک ہڑتا شروع کی۔

جمیل نے بتایا کہ ستمبر میں ڈاکٹر شکیل آفریدی نے ٹیلیفون پر امریکی ٹی وی فوکس نیوز کو انٹرویو دیا تھا جس کے بعد ان کے ساتھ ناروا سلوک رکھا جا رہا ہے اور انہیں رشتہ داروں کے ساتھ ملنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

" مجھے اپنا کام کرنے کے علاوہ کسی مخصوص شخص کو نشانہ بنانے کے بارے میں علم نہیں تھا۔ مجھے اندازہ تھا کہ اس گھر میں کچھ دہشت گرد رہ رہے تھے لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کون تھے۔ میں حیران ہوں۔مجھے یقین نہیں آتا کہ میں ان(اسامہ بن لادن|) کے قتل میں ملوث ہوں"

ڈاکٹر شکیل افریدی

شکیل آفریدی کو ایک عسکریت پسند گروپ کے ساتھ تعلق رکھنے کے جرم میں 33 برس کی سزا ہوئی لیکن عام تاثر یہ ہے کہ انہیں امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے کی اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے میں مدد کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک جعلی ویکسینیشن مہم کے ذریعے اسامہ بن لادن کے خاندان کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم شکیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کے موت میں اپنے کردار سے لاعلم تھے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی نے فوکس ٹی وی کو بتایا تھا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ سی آئی اے بن لادن کو نشانہ بنائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ’ مجھے اپنا کام کرنے کے علاوہ کسی مخصوص شخص کو نشانہ بنانے کے بارے میں علم نہیں تھا۔‘

انہوں نے کہا تھا کہ’ مجھے اندازہ تھا کہ اس گھر میں کچھ دہشتگرد رہ رہے تھے لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کون تھے۔ میں حیران ہوں۔مجھے یقین نہیں آتا کہ میں ان (اسامہ بن لادن) کے قتل میں ملوث ہوں۔‘

ڈاکٹر شکیل آفریدی نے کہا تھا کہ پاکستان کے جاسوسی اداروں نے انہیں اغوا کرکے ان پر تشدد کیا۔

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک امریکی کمانڈو آپریشن میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدہ ہوگئے تھے۔

اسلام آباد کا موقف تھا کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف کمانڈو آپریشن کرکے امریکہ نے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کی تھی ۔

امریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔