BBC navigation

کراچی:حلقہ بندیوں میں رد و بدل پر کام شروع

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 29 نومبر 2012 ,‭ 15:14 GMT 20:14 PST

الیکشن کمیشن نے کراچی میں انتخابی حلقہ بندیوں میں ردوبدل کا آغاز کر دیا ہے

کراچی میں انتخابی حلقہ بندیوں میں رد و بدل کے لیے الیکشن کمیشن نے اپنی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے شہر میں لسانی بنیادوں پر کی گئی حلقہ بندیاں ختم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

کراچی کے ڈپٹی کمشنروں نے الیکشن کمیشن سے امن کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے مجسٹریٹ کے اختیار کا مظالبہ کیا ہے۔یہ مطالبہ چیف سیکریٹری سندھ راجہ محمد عباس کے ساتھ اجلاس میں کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں پاکستان الیکشن کمشین کےاشتیاق احمد خان بھی شریک تھے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈپٹی کمشنروں کا کہنا تھا کہ انتخابات کے لیے امن لازمی ہے اور امن قائم رکھنے کے لیے ان کے پاس مجسٹریٹ کے اختیار ہونا ضروری ہیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ الیکشن افسر موجودہ حلقہ بندیوں کا جائزہ لیں گے، جس کے بعد ان میں تبدیلی کی سفارش کی جائےگی۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان کا کہنا تھا کہ نئی مردم شماری کے بعد حلقہ بندیاں ہونی تھیں یہ مشق سپریم کورٹ کی ہدایت پر کی جا رہی ہے کیونکہ وہ آئین کو بہتر سمجھتی ہے۔

یاد رہے کہ سندھ کی حکومت نے سپریم کورٹ میں امن کے قیام کے لیے لیے جاری سماعت کے موقعے پر یہ موقف اختیار کیا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں کے لیے مرد شماری آئینی تقاضہ ہے، عدالت نے ہدایت کہ تھی کہ نئے حلقے نہ بنائے جائیں صرف رد بدل کی جائے

یاد رہے کہ سندھ کی حکومت نے سپریم کورٹ میں امن کے قیام کے لیے لیے جاری سماعت کے موقعے پر یہ موقف اختیار کیا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں کے لیے مرد شماری آئینی تقاضا ہے، عدالت نے ہدایت کہ تھی کہ نئے حلقے نہ بنائے جائیں صرف رد بدل کی جائے۔

دوسری جانب حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے پورے سندھ میں حلقہ بندیوں کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے صوبائی سیکرٹری جنرل تاج حیدر نے چیف الیکشن کمشنر کو بھیجے گئے ایک یادداشت نامے میں کہا ہے کہ وہ ماضی میں بار بار یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ موجودہ حلقہ بندیاں لسانی بنیادوں پر کی گئی ہیں، سپریم کورٹ کی حالیہ ہدایت سے ان کا موقف درست ثابت ہوا ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ نئی حلقہ بندیاں بین الاقومی اصولوں اور قواعد کے مطابق کی جائے تاکہ وہ تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہوں۔

تاج حیدر نے الیکشن کمیشن کو گزارش کی ہے کہ حلقے برابر کی آبادی کی بنیاد پر بنائے جائیں اور یہ چھوٹے ہونے چاہیں، اس حوالے سے انہوں نے کراچی کے حلقے 258 کا حوالہ دیا ہے جو 58 کلومیٹر طویل ہے۔

انہوں نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ حلقہ بندیوں کے وقت فطری حد بندیوں ندی، نالوں، روڈ رستوں کو بھی مد نظر رکھا جائے، انہیں عبور نہ کیا جائے،بقول تاج حیدر کے اگر بین الاقوامی اصول اور قواعد سامنے رکھ کر حلقہ بندیاں کی جائیں گی تو اس سے لسانی عنصر کا خاتمہ ہوجائے گا۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ نے سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی کے حلقہ بندیوں کے فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کراچی کی قومی اور صوبائی اسمبلی کے نشتسوں کی اکثریت پر متحدہ کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی تھی۔

ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے کا کہنا ہے کہ وہ پوری ذمہ داری اور وثوق سے کہتے ہیں کہ ’سپریم کورٹ کی بینچ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ یہ کہے کہ ایسی حلقہ بندیاں تشکیل دی جائیں جس میں کسی ایک جماعت کی اجارہ داری نہ ہو‘۔

الطاف حسین کے مطابق ’یہ کسی عدالت کا نہیں بلکہ عوام کا جمہوری حق ہے کہ وہ کسی بھی حلقہ میں کس جماعت کو اپنا مینڈیٹ دیتے ہیں اور کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ عوام سے اس حق کوچھینے‘۔

الطاف حسین نے کا کہنا ہے کہ ملک کے ہرشہر میں کسی نہ کسی پارٹی کو عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے، اگر کراچی کے بارے میں سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے یہ ریمارکس درست اور جائز ہیں تو پھر پورے ملک کے لئے یہ فارمولا کیوں اختیارنہیں کیاگیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔