BBC navigation

’توہینِ عدالت سے میڈیا پر پابندی نہ لگائی جائے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 27 نومبر 2012 ,‭ 09:11 GMT 14:11 PST

’جن ججوں نے قانون کی سربلندی کا حلف اٹھایا ہے انھیں توہینِ عدالت کی طاقت استعمال کر کے میڈیا کی طرف سے تنقید روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے‘

انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ پاکستانی عدلیہ کے ججوں کو چاہیے کہ وہ توہینِ عدالت کی طاقت استعمال کر کے میڈیا کو عدالتی تنقید پر مبنی پروگرام نشر کرنے سے نہ روکیں۔

رپورٹ کے مطابق دو ہزار نو میں پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی بحالی کے بعد سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس عدالتی کارروائیوں پر تنقید کو توہینِ عدالت کی دھمکی سے دبانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔

اکتوبر 2012 کے بعد سے اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ نے ایک حکم نامے کے تحت ٹیلی ویژن پروگراموں میں عدالت کے فیصلوں پر تنقید پر پابندی لگا دی تھی۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے کہا ’جن ججوں نے قانون کی سربلندی کا حلف اٹھایا ہے انھیں توہینِ عدالت کی طاقت استعمال کر کے میڈیا کی طرف سے تنقید روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔‘

’ججوں کو تنقید سے کوئی خاص استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا۔ اگر وہ اپنے آپ کو جبر اور سنسرشپ والے ادارے کے روپ میں نہیں دیکھنا چاہتے تو انھیں اظہار کی آزادی پر ان پابندیوں کو فوری طور پر ختم کر دینا چاہیے۔‘

ادارے نے پریس ریلیز میں میڈیا کی آزادی پر پابندی کی دو حالیہ مثالیں دی ہیں۔

نو اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے پاکستان میڈیا کے انضباطی ادارے پیمرا کو حکم دیا کہ وہ ٹیلی ویژن پر عدلیہ کے خلاف تنقید بند کروائے۔ عدالت نے اس کی توجیہہ یہ پیش کی کہ اس پابندی کا مقصد یہ ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ’کسی چینل کے کسی پروگرام میں ایسا ناپسندیدہ، بدنیتی پر مبنی اور غلط مواد نشر نہ ہونے پائے جس میں چیف جسٹس آف پاکستان اور اعلیٰ عدالتوں کے دوسرے قابلِ احترام ججوں پر تنقید کی گئی ہو، ان کا مذاق اڑایا ہو، اور ان کی ہتک کی گئی ہو۔‘

"پاکستان کے ججوں نے حکومت کو جواب دہ قرار دینے کے لیے اپنی آزادی ثابت کی ہے۔ لیکن عدلیہ کی جانچ پڑتال اور احتساب کے خلاف جنگ سے خود ان کی ساکھ ختم ہو جائے گی۔"

ہیومن رائٹس واچ

20 نومبر کوعدالت نے ایک تنقیدی پروگرام کے نشر ہونے سے روکنے کا حکمِ امتناعی برقرار رکھا اور پیمرا سے مطالبہ کیا کہ وہ 26 اکتوبر کو اے آر وائی پر نشر ہونے والے ایک پروگرام کے بارے میں رپورٹ سے آگاہ کریں جس میں چیف جسٹس افتخار چودھری پر تنقید کی گئی تھی۔

عدالت نے چینل کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر حاجی جان محمد کو بھی توہینِ عدالت کا نوٹس بھجوایا۔

16 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ کے جج ناصر سعید شیخ نے ایک پروگرام کے نشر ہونے کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کر دیا۔ سات نومبر کو عدالت نے اس حکمِ امتناعی میں توسیع کر دی۔

ایڈمز نے کہا ’کسی جمہوری معاشرے میں حکومت کی کوئی بھی شاخ، بشمول عدلیہ، کو عوامی رائے سے استثنیٰ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کے ججوں نے حکومت کو جواب دہ قرار دینے کے لیے اپنی آزادی ثابت کی ہے۔ لیکن عدلیہ کی جانچ پڑتال اور احتساب کے خلاف جنگ سے خود ان کی ساکھ ختم ہو جائے گی۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔