BBC navigation

راولپنڈی: ماتمی جلوس پر خودکش حملہ، اٹھارہ ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 22 نومبر 2012 ,‭ 23:29 GMT 04:29 PST

راولپنڈی میں ماتمی جلوس پر حملے میں اٹھارہ افراد اور متعدد زخمی ہو گئے

بدھ کی شب پنجاب کے شہر راولپنڈی میں ایک ماتمی جلوس پر خود کش حملے میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستان میں شدت پسندی کی لہر کے بعد یہ راولپنڈی میں کسی ماتمی جلوس پر پہلا حملہ ہے۔

راولپنڈی کے علاقے ڈھوک سیداں میں مصریال روڈ پر ماتمی جلوس پر یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب جلوس قریب ہی واقع امام بارگاہ کی طرف روانہ ہوا ہی تھا۔

سٹی پولیس چیف راولپنڈی اظہر حمید کے مطابق دھماکہ خود کش تھا۔

موقع پر موجود ہمارے نمائندے کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں کئی دوکانیں بھی تباہ ہوئیں۔ اس حملہ کے فوراً بعد مزید پولیس بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی جنھوں نے علاقے کو گھیرے میں لیا۔

ایس پی سید حسیب حسین شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دھماکہ ڈھوک سیداں میں قصر شبیر امام بارگاہ کے قریب ہوا۔

اس واقعہ کے فوراً بعد ایدھی ایمبولینسز اور فائر انجنز کے علاوہ ریسکیو 1122 اور شہری دفاع کے اہلکار بھی وہاں پہنچ گئے۔ ان کے علاوہ مقامی لوگوں کی بڑی تعداد پر وہاں جمع ہوگئی۔

ریسکیو 1122 کے ایک مقامی افسر سب انسپکٹر رضوان حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جائے وقوعہ سے آٹھ سے نو لاشیں نکالیں جبکہ بیس سے پچیس زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں بعض زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔

" ہم ماتم کرتے رہے کہ کسی نے جلوس میں بم پھاڑ دیا، کوئی سمجھ نہیں آئی یہ سب کیسے ہوا، ایک بائیس تئیس سال کا مشکوک نوجوان جلوس میں تھا، اس نے کالے رنگ کی شلوار قمیض اور سبز رنگ کی جیکٹ پہنی ہوئی تھی، پہلے وہ ماتم نہیں کررہا تھا،، بعد میں اس نے بھی ماتم شروع کیا، وہ بھی بم دھماکے کے ساتھ اڑ گیا"

سید شہزاد حسین شاہ،عینی شاہد

پولیس کا کہنا ہے کہ بعض افراد شدید زخمی ہوئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

دھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے سے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے اور زخمیوں کو شہید بے نظیر ہسپتال اور دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

شہری دفاع کے بم ڈپسوزل سکواڈ کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ انھیں وہاں پھٹے ہوئے ہینڈ گرنیڈ کے ٹکڑے ملے ہیں۔

ماتمی جلوس میں شامل ایک عینی شاہد سید شہزاد حسین شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم ماتم کرتے رہے کہ کسی نے جلوس میں بم پھاڑ دیا، کچھ سمجھ نہیں آئی یہ سب کیسے ہوا، ایک بائیس تئیس سال کا مشکوک نوجوان جلوس میں تھا، اس نے کالے رنگ کی شلوار قمیض اور سبز رنگ کی جیکٹ پہنی ہوئی تھی، پہلے وہ ماتم نہیں کر رہا تھا، بعد میں اس نے بھی ماتم شروع کیا، وہ بھی بم دھماکے کے ساتھ اڑ گیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ان کے بھائی بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا جب یہ دھماکہ ہوا تو عین اسی وقت بجلی بھی چلی گئی۔

کئی عینی شاہدین نے یہ شکایت کی کہ جونہی دھماکہ ہوا تو جلوس کے ہمراہ پولیس اہلکار موقع سے بھاگ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جلوس کی حفاظت کے لیے پولیس کی بہت کم تعداد تعینات کی گئی تھی۔

صدر آصف علی زرداری نے دھماکے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی جبکہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو علاج کے لیے بہتر سہولتیں مہیا کرنے کے لیے احکامات جاری کیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔