BBC navigation

ملالہ کی نوبیل انعام کیلیے نامزدگی کا مطالبہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 9 نومبر 2012 ,‭ 13:39 GMT 18:39 PST

برمنگھم میں کوئین الزبتھ ہسپتال کے ترجمان نے کہا ہے کہ ملالہ کی حالت میں بہتری آ رہی ہے

دنیا بھر سے اٹھاسی ہزار سے زائد افراد نے آن لائن پٹیشن پر دستخط کر کے پاکستان کی وادئ سوات میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ نے دس نومبر کی تاریخ کو عالمی سطح پر ’ملالہ‘ کے نام سے منسوب کر دیا ہے اور تعلیم کے لیے تنظیم کے ایلچی گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ دنیا پاکستان میں بچوں کو تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مدد کرنے کو تیار ہے۔

کلِک آئندہ نسلوں پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے: ضیاالدین یوسفزئی

ملالہ یوسف زئی پر نو اکتوبر کو قاتلانہ حملہ ہوا تھا تاہم وہ شدید زخمی ہونے کے باوجود اس حملے میں زندہ بچ گئیں۔ طالبان نے حملے کی وجہ ملالہ یوسف زئی کا کھلے عام طالبان کے خلاف بیانات دینا بتایا تھا۔

پندرہ سالہ ملالہ یوسف زئی پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم کارکن کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں۔ سنہ دو ہزار نو کے اوائل میں انہوں نے بی بی سی اردو کے لیے ڈائری لکھی جس میں ضلع سوات میں طالبان کے زیرِتسلط گزرنے والی زندگی کا احوال بتایا۔

آئن لائن پٹیشن سائن کرنے والوں نے برطانیہ کی حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مُہم کا ساتھ دیں کیونکہ بقول ان کے ’ملالہ ان لوگوں کی ترجمانی کرتی ہیں جنہیں تعلیم سے محروم کیا جاتا ہے۔‘

چینج ڈاٹ اورگ نامی ویب سائٹ پر شروع کی جانے والی اس پٹیشن سے جڑی ایک برطانوی کارکن شاہدہ چوہدری نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ملالہ کو امن کا نوبیل انعام دیا جانا دنیا کو ایک واضح پیغام دے گا اور خواتین کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے والوں کی حوصلہ افزائی کا باعث ہوگا‘۔

اسی دوران سنیچر دس نومبر کو عالمی سطح پر ’ملالہ‘ کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر میں ان تین کروڑ بیس لاکھ لڑکیوں کے لیے سکولوں کا بندوبست کرنا ہے جو حصولِ تعلیم سے محروم ہیں۔

"ملالہ اور ان کے اہلخانہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے ملک میں بہت سے بہادر بچیاں اور ان کے خاندان موجود ہوں جو پر بچے خصوصاً بچیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا چاہتے ہیں۔"

گورڈن براؤن

اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں تعلیم سے محروم تین سو بیس ملین لڑکیوں میں سے پچاس لاکھ سے زائد پاکستان میں ہیں۔

اسی سلسلے میں پاکستان میں موجود تعلیم کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی گورڈن براؤن نے جمعہ کو اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور حکومتِ پاکستان کو ملالہ کی حمایت میں ایسی پٹیشن پیش کی جس پر دس لاکھ سے زیادہ افراد کے دستخط ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسلام آباد میں ہی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورڈن براؤن نے کہا کہ عالمی برادری غربت سے نمٹنے اور بچوں کو تعلیم کے یقینی مواقع فراہم کرنے کے لیے پاکستان کی مدد کو تیار ہے۔

.انہوں نے کہا کہ ’ملالہ اور ان کے اہلخانہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے ملک میں بہت سے بہادر بچیاں اور ان کے خاندان موجود ہوں جو پر بچے خصوصاً بچیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا چاہتے ہیں‘۔

پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے دس نومبر کو ’یومِ ملالہ‘ منانے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

کمیشن نے پاکستانی حکومت اور عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملالہ کو دنیا بھر سے ملنے والے خراجِ تحسین کے بعد پختہ عہد کریں کہ وہ اپنے بچوں، خاص طور پر بچیوں کی تعلیم کے حق کے لیے تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے۔

کمیشن نے کہا کہ ملالہ نے دنیا بھر میں اپنے ملک کے لیے جو اعلیٰ مقام بنایا ہے اس کی وجہ سے ملک اور قوم کے لیے چیلنج بھی پیدا ہو گئے ہیں، جن کے باعث لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کی معیاری تعلیم کے حصول کے مساوی مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

ملالہ کے والد نے کہا کہ ملالہ نے اپنے خون سے انسانی تہذیب اور وحشی پن کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی ہے

اس سے پہلے گذشتہ روز ہی ملالہ یوسف زئی کے والد ضیاء الدین یوسفزئی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ وہ ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ملالہ یوسف زئی کی حمایت کی اور اس پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی مذمت کی۔

برطانیہ کے کوئین الزبتھ ہسپتال کی جانب سے جاری اس ویڈیو میں ملالہ یوسف زئی کے والد ضیاءالدین یوسف زئی نے کہا ’میں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں جو امن کو پسند کرتے ہیں اور جنہوں نے ملالہ یوسف زئی کی حمایت کی‘۔

اس ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’ملالہ نے اپنے خون سے انسانی تہذیب اور وحشی پن کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر آج ملالہ اور اس جیسی انسانی حقوق کی دوسری کارکنوں کی آواز نہ سنی گئی تو آئندہ آنے والی نسلیں بنیادی حقوق سے محروم رہیں گی۔ ’ہم اپنی آنے والوں نسلوں کے لیے امن اور استحکام پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ تعلیم حق ہے‘۔

انہوں نے کہا ’تعلیم انسان کو اپنے جیسے دوسرے لوگوں کے ساتھ اور ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہونا سکھاتی ہے۔ آج ساری دنیا ایک دوسرے سے وابستہ اور ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔