BBC navigation

اقوام متحدہ: حقانی نیٹ ورک پر پابندیاں عائد

آخری وقت اشاعت:  منگل 6 نومبر 2012 ,‭ 22:34 GMT 03:34 PST

پاکستان اس تاثر کو مسترد کرتا ہے کہ پاکستان کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مراسم ہیں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شدت پسند تنظیم حقانی نیٹ ورک پر عالمی پابندیاں عائد کردی ہیں۔

سلامتی کونسل کی کمیٹی برائے افغانستان / طالبان پابندیوں نے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ تنظیم کے خودکش کارروائیوں کے نگراں قاری ذاکر پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔

سلامتی کونسل کی جانب سے حقانی نیٹ ورک اور قاری ذاکر پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ کے تمام ممالک ممبران پر یہ لازم ہے کہ وہ ان کے اثاثے منجمد کریں، سفر پر پابندی لگائیں اور اسلحے کی فراہمی پر بھی پابندی لگائیں۔

یاد رہے کہ امریکہ نے رواں سال ستمبر میں حقانی نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اس تاثر کو مسترد کرتا ہے کہ پاکستان کے حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مراسم ہیں۔

پاکستان کے سرحدی علاقوں سے کام کرنے والی اس تنظیم پر افغانستان میں غیر ملکی افواج کے خلاف کئی اہم حملے کرنے کا الزام ہے خاص طور پر کابل میں گزشتہ کچھ عرصے میں ہونے والے بڑے حملوں میں اسی گروہ کو ملوث قرار دیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے حقانی نیٹ ورک پر پابندی عائد کرنے کے بعد امریکی سفیر سوزن رائس نے کہا ’اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں عائد کرنے سے اس بات کا اعادہ ہوتا ہے کہ دنیا حقانی نیٹ ورک کی افغانستان میں حملے کرنے کی صلاحیت ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘

امریکی سفیر نے مزید کہا ’قاری ذاکر بڑے خودکش حملوں کے ذمہ دار ہیں اور انہوں نے کئی افراد کو چھوٹے اسلحے اور دیسی ساخت کے بم بنانے کی تربیت دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قاری ذاکر کے تربیت یافتہ شدت پسندوں نے سنہ 2010 میں افغانستان میں بین الاقوامی فوج کے دو اڈوں پر حملے کیے اور سنہ 2011 میں کابل میں انٹر کانٹیننٹل ہوٹل پر بھی حملہ کیا۔ اس کے علاوہ انہی کے تربیت یافتہ شدت پسندوں نے ستمبر 2011 میں کابل میں امریکی سفارتخانے پر بھی حملہ کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔