BBC navigation

درہ آدم خیل: کار بم دھماکے میں پندرہ ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 13 اکتوبر 2012 ,‭ 11:59 GMT 16:59 PST
درم آدم خیل بلاسٹ

تحریکِ طالبان نے دھماکے سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے

پاکستان کے نیم قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں ایک کار بم دھماکے میں پندرہ افراد ہلاک اور انتالیس سے زائد زخمی ہو گئے۔

درہ آدم خیل کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ فخر الدین نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد سولین (عام شہری) تھے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ ایک کار بم حملہ تھا جس میں چونتیس دکانوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ سات گاڑیاں تباہ ہو گئی ہیں۔

کمشنر کوہاٹ ڈویژن صاحبزادہ محمد انیس نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ اس جگہ ہوا جہاں امن لشکر کا مرکز واقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ دھماکے میں امن لشکر کے مرکز کو ہدف بنایا گیا۔

دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نے بی بی سی کو فون کر کے اس دھماکے سے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا حکومتی حامی لشکر کے پاس بھی ہتھیار اور گولہ بارود ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ ان کا اپنا گولہ بارود پھٹ گیا ہو۔

دریں اثنا صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں چھ لاشیں لائیں گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق زخمی افراد کو پشاور اور کوہاٹ کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی وی کے مطابق دھماکے سے پچیس سے زائد دکانوں کو نقصان پہنچا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔