’طالبان کا ذرائع ابلاغ کو نشانہ بنانے کا فیصلہ‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 12 اکتوبر 2012 ,‭ 15:15 GMT 20:15 PST

تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان کی طرف سے ملالہ یوسفزئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے پاکستان کے مختلف شہروں میں ذرائع ابلاغ کے ملکی اور غیرملکی اداروں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے اپنے کارندوں کو خصوصی ہدایت جاری کی ہیں۔

وزراتِ داخلہ کے ایک ذمہ دار اہلکار نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خفیہ اداروں نے حکیم اللہ محسود کی ٹیلی فون پر اپنے گروپ کے ایک کارندے ندیم عباس عرف انتقامی سے بات چیت ریکارڈ کی ہے جس میں وہ اُسے ذرائع ابلاغ کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق ندیم عباس عرف انتقامی کو حکیم اللہ محسود نے اسلام آباد راولپنڈی، لاہور، پشاور، کراچی اور ملک کے دیگر شہروں میں ذرائع ابلاغ کے دفاتر اور ان نمائندوں کے خلاف کارروائی کرنے یا کروانے کے لیے کہا ہے جو تحریک طالبان پاکستان کو ملالہ یوسفزئی پر حملے کے بعد شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے ملالہ یوسفزئی پر حملے کے بعد پاکستان اور پاکستان سے باہر شدید رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان میں عوامی سطح پر تحریک طالبان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

ذرائع ابلاغ میں بھی تحریک طالبان کے خلاف نفرت اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔

حکیم اللہ محسود کی کال سننے کے بعد حکومت نے ملک بھر میں ذرائع ابلاغ کے دفاتر اور خاص طور پر غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے دفاتر کے باہر سکیورٹی کے انتظامات سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔

حکومت نے اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں کے متعلقہ حکام کو اس بارے میں تمام اہم اخبارات اور بین الاقوامی میڈیا کے دفاتر کے باہر حفاظتی اقدامات بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان نے نو اکتوبر کو ملالہ یوسفزئی پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

یاد رہے کہ کالعدم تنظیم کی جانب سے ٹیلی فون اور ای میلز کے ذریعے ملکی اور بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کو دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق اس کے علاوہ اُن مذہبی رہنماوں کو بھی محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جو ملالہ یوسف زئی پر ہونے والے حملے کی میڈیا میں آ کر کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔

وفاقی حکومت نے تمام متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ جن علاقوں میں اہم ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کے دفاتر موجود ہیں وہاں پر پولیس کی نفری کو تعینات کیا جائے اور اگر ضرورت محسوس ہو تو فرنٹئیر کانسٹیبلری کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت سے کہا جا سکتا ہے۔

وزارت داخلہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے چیف کمشنر اور چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز سے کہا گیا ہے کہ وہ میڈیا کے ذمہ دار افراد سے ملاقاتیں کریں اور سکیورٹی سے متعلق خدشات کو دور کیا جائے۔

اسلام آباد پولیس کے سربراہ بنیامین کا کہنا ہے کہ تمام تھانوں کے سربراہان کو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ اُن کے علاقے میں موجود میڈیا کے دفاتر کے باہر نہ صرف پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں بلکہ اِن علاقوں میں پولیس کے گشت میں بھی اضافہ کردیا جائے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ بہت جلد پولیس اور انتظامیہ کے افسران میڈیا کے ذمہ دار افراد سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

دریں اثناء سوات میں طالبان کے ترجمان نے دھمکی دی ہے کہ ملالہ یوسفزئی کو ہلاک کرنے میں ناکامی کے بعد طالبان اب ملالہ کے والد ضیاالدین یوسفزئی پر قاتلانہ حملے کریں گے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق سوات میں سراج الدین احمد نے جو مولانا فضل اللہ کے ملا ریڈیو کے ترجمان ہیں کہا ہے فضل اللہ کے خصوصی ڈیتھ سکواڈ میں شامل دو قاتلوں کو ملالہ یوسفزئی کو ہلاک کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

رائٹرز نے سوات طالبان میں شامل شدت پسندوں کے حوالے سے کہا ہے کہ سوات طالبان ملشیاء تحریک طالبان پاکستان کی ذیلی تنظیم ہے اور اس سو سے زیادہ شدت پسند ایسے ہیں جو ٹارگٹ کلنگ میں ماہر تصور کیے جاتے ہیں۔

ملالہ پر حملے میں دو ٹارگٹ کلرز کو جو کہ بیس سے تیس سال کی درمیانی عمر کے تھے استعمال کیا گیا۔

سراج الدین احمد نے جو اب افغانستان کے صوبے کنٹر میں موجود ہیں کہا تحریک طالبان ملالہ کو ہلاک کرنا نہیں چاہتی تھی لیکن جب اس نے طالبان کے خلاف اپنا منہ بند نہیں کیا تو وہ اس پر قاتلانہ حملہ کرنے پر مجبور ہو گئے۔

احمد نے کہا کہ طالبان کی شوری کا کچھ ماہ قبل ایک اجلاس ہوا تھا جس میں متفقہ طور پر یہ ملالہ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ملالہ کو قتل کرنے کی ذمہ دار فوجی کمانڈروں کو سونپ دی گئی۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایئٹڈ پریس کے مطابق طالبان کا یہ اجلاس دو ماہ قبل ہوا تھا۔

اے پی نے سراج الدین احمد کے حوالے سے کہا کہ ملالہ کو تین مرتبہ متنبہہ بھی کیا گیا تھا لیکن وہ باز نہیں آئی۔

سراج الدین احمد نے اے پی کے ایک رپورٹر کو بتایا کہ ملالہ کو دو ہفتے قبل بھی ایک تنبہہ بھی کی گئی تھی۔

رائٹرز نے مزید کہا کہ دو شدت پسندوں نے ذاتی طور پر ملالہ کے متعلق تمام معلومات حاصل کئیں جس میں ان کے سکول جانے آنے کا راستہ اور اوقات کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔ یہ معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی ملالہ پر حملہ کیا گیا۔

طالبان کے ترجمان نے رائٹر کو مزید بتایا کہ ملالہ کو شریف آباد میں فوجی چوکی کے قریب اس لیے نشانہ بنایا گیا تاکہ یہ بات واضح کی جاسکے کہ طالبان کسی بھی جگہ کوئی بھی کارروائی کر سکتے ہیں۔

سراج الدین احمد نے کہا کہ تنظیم نے اب ملالہ کے والد کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔