BBC navigation

ملالہ یوسفزئی علاج کے لیے راولپنڈی منتقل

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 11 اکتوبر 2012 ,‭ 12:43 GMT 17:43 PST

’ملالہ یوسفزئی کی حالت اب بھی خطرے سے باہر نہیں ہے‘۔ گورنر خیبر پختونخواہ مسعود کوثر

سوات کے شہر مینگورہ میں طالبان کے حملے میں شدید زخمی ہونے والی قومی امن ایوارڈ یافتہ چودہ سالہ طالبہ ملالہ یوسفزئی کو مزید علاج کے لیے راولپنڈی منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل ملالہ کے چچا نے بدھ کی رات بتایا تھا کہ آپریشن کے بعد ملالہ کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔

ادھر خیبر پختونخواہ کی حکومت نے ملالہ یوسف زئی اور ان کی ساتھی طالبات کی صحتیابی کے لیے کل یعنی جمعے کو یومِ دعا منانے کا اعلان کیا ہے۔

پشاور میں صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے جمعرات کو یہ فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘پاکستانی قوم سے بالعموم اور صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام سے بالخصوص اپیل کی جاتی ہے کہ وہ بھی یوم دعا میں اپنی منتخب حکومت کے ساتھ شریک ہوں اور ملالہ اور ان کی ساتھی طالبات کے اہل خانہ کے ساتھ اپنی دلی ہمدردی کا اظہار کریں۔’

کلِک ملالہ کی ڈائری

کلِک ملالہ یوسفزئی پر حملے کے خلاف ملک گیر احتجاج

کلِک وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے۔۔۔

کلِک ملالہ پر حملے پر ردِعمل

جمعرات کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنرمسعود کوثر نے پشاور میں صحافیوں کو بتایا کہ ’ملالہ یوسفزئی کی حالت اب بھی خطرے سے باہر نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ملالہ کو پشاور سے راولپنڈی منتقل کیا جا رہا ہے۔ گورنر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملالہ کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کے لیے بھی تمام انتظامات مکمل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملالہ کو راولپنڈی میں فوج کے امراض قلب کے ادارے کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا ہے۔

اس سے قبل ملالہ یوسفزئی کے چچا سعید رمضان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ڈاکٹروں کے مطابق آپریشن کے بعد ملالہ کی حالت بہتر ہو رہی ہے اور اس نے کچھ حرکت بھی کی ہے لیکن ابھی وہ اب بھی بے ہوش ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے اڑتالیس گھنٹے ملالہ کی زندگی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

"بچوں کے خلاف تشدد کا ارتکاب ایک وحشیانہ فعل ہے اور ہماری ساری ہمدردیاں ملالہ یوسف زئی اور حملے میں زخمی ہونے والی دوسری بچوں اور ان کے خاندان والوں کے ساتھ ہیں۔"

امریکی صدر، براک اوباما

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ملالہ کے آپریشن کے بعد انہیں کم از کم دو دن تک بے ہوش رکھا جائے گا تاکہ ان کے ذہن کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا ایسی صورتحال میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

میاں افتخار حسین نے یومِ دعا منانے کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں سے یہ بھی کہا کہ وہ ہر نماز کی ادائیگی کے بعد ملالہ کی جلد صحتیابی کے لیے دعا اور دہشتگردوں کے لیے بددعا کریں۔

انہوں نے کہا کہ ملالہ کا خاندان رنج و غم کے ان لمحات میں تنہا نہیں ہے کیونکہ پوری قوم کی دعائیں ملالہ کے ساتھ ہیں اور پوری قوم واقعے میں ملوث دہشتگردوں کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔

امریکہ نے ملالہ یوسفزئی کو علاج کے لیے ہر قسم کی سہولت کی پیشکش کی ہے۔ امریکہ نے پیشکش کی ہے کہ اگر ملالہ کو علاج کے لیے ملک سے باہر منتقل کرنے کے لیے ایئر ایمبولینس کی ضرورت ہو تو امریکہ مہیا کرنے کے لیے تیار ہے۔

ملالہ یوسفزئی پر حملے کے خلاف ملک اور بیرون ملک غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ امریکہ صدر براک اوباما، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی نمائندہ کیتھرین ایشٹن نے ملالہ پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا امریکی صدر نے طالبان کے چودہ سالہ بچی پر حملے کو ’مکروہ‘ اور ’قابل نفرت‘ قرار دیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ بچوں کے خلاف تشدد کا ارتکاب ایک وحشیانہ فعل ہیں اور ان کی ساری ہمدردیاں ملالہ یوسفزئی اور حملے میں زخمی ہونے والی دوسری بچوں اور ان کے خاندان والوں کے ساتھ ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ملالہ یوسفزئی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس بزدلانہ اور گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کو جلد سے جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

" اس طرح کے غیر انسانی فعل اس شدت پسندانہ ذہنیت کو بےنقاب کرتے ہیں جس کا سامنا پاکستانی قوم کر رہی ہے۔ ملالہ پر حملہ کرنے والوں کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ ہمت اور امید کا نشان ہے۔ ہم دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ہم لڑیں گے اس بات سے قطع نظر کہ ماضی میں ہم نے اس کے لیے کتنی قیمت ادا کی ہے۔"

جنرل اشفاق پرویز کیانی

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی نمائندہ کیتھرین ایشٹن نے ملالہ یوسفزئی پر طالبان کے حملے کو گھناؤنی جارحیت قرار دیا۔

افغان صدر حامد کرزئی نے بھی ملالہ یوسفزئی پر طالبان کے حملے کی مذمت کی اور اپنے پاکستانی ہم منصب سے ٹیلیفون پر بات کر کے افسوس کا اظہار کیا

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ہسپتال میں ملالہ اور ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی ہے اور اس حملے کو قابلِ نفرت دہشت گرد کارروائی قرار دیا ہے۔

ملالہ یوسفزئی کو منگل کو مینگورہ میں مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔گولی ملالہ کے ماتھے میں لگی اور دماغ سےگزر کر گردن کی طرف گئی۔

تحریک طالبان نے ملالہ یوسفزئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی ۔طالبان ترجمان احسان اللہ احسان نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ملالہ یوسفزئی طالبان مخالف تھیں اس لیے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔