خط کا مسودہ منظور، نوٹس کی واپسی وصولی سے مشروط

آخری وقت اشاعت:  بدھ 10 اکتوبر 2012 ,‭ 05:50 GMT 10:50 PST

پاکستان کی سپریم کورٹ نے این آر او عملدرآمد کیس میں وفاقی حکومت کی جانب سے سوئس حکام کو لکھے جانے والے خط کے تدوین شدہ مسودے کی منظوری دے دی ہے۔

تاہم عدالت نے اس مقدمے کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں وزیراعظم پاکستان کے خلاف توہینِ عدالت کے نوٹس کو فوری طور پر واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔

بدھ کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اس مقدمے کی سماعت شروع کی تو وفاقی وزیرِ قانون فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں مسودہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جمہوریت کا فروغ اور اداروں کا استحکام چاہتی ہے۔

جج صاحبان نے مسودے کا جائزہ لینے کے لیے عدالتی کارروائی کچھ دیر کے لیے روک دی اور مشاورت کے لیے اپنے چیمبرز میں چلے گئے۔

جب کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو عدالت کا کہنا تھا کہ خط کا مسودہ این آر و قانون کی شق ایک سو اٹھہتر سے مطابقت رکھتا ہے۔

خط کے متن میں لکھا گیا ہے کہ ملک قیوم کا خط واپس لیا جائے اور اسے ایسا تصور کیا جائے کہ جیسے یہ کبھی لکھا ہی نہیں گیا تھا۔

عدالت میں موجود ہمارے نامہ نگار کے مطابق خط میں یہ بھی کہا گیا ہے ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت صدرِ پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

"وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ خط کے مسودے کی عدالت سے منظوری کے بعد اب جس میں پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ اگر اس اجلاس میں خط سے متعلق حکومتی موقف کے بارے میں عوام کو اس بارے میں آگاہ کرنے کا فیصلہ ہوا تو عوام کے پاس بھی جایا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ اس مسودے میں صدر آصف علی زرداری کے استثنی کا لفظ تو استعمال نہیں ہوا لیکن ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اُن کے خلاف مقدمات اُس وقت تک نہیں کھولے جا سکتے جب تک وہ عہدہ صدارت پر تعینات ہیں۔ وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اس خط کے مسودے کی منظوری وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے دی ہے جس کا مطلب ہے کہ اس خط کے مسودے کو عدالت میں پیش کرنے سے پہلے پارٹی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔"

شہزاد ملک

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

عدالت کی جانب سے خط کا مسودہ منظور کیے جانے کے بعد وزیرِ قانون نے کہا کہ اب جبکہ عدالت خط سے مطمئن ہے تو وزیراعظم کے خلاف توہینِ عدالت کا نوٹس واپس لے لیا جائے۔

تاہم عدالت نے فی الحال یہ نوٹس واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک سوئس اٹارنی جنرل کی جانب سے اس خط کی وصولی کی تصدیق نہیں ہو جاتی ایسا ممکن نہیں ہے۔

عدالت کے استفسار پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ یہ خط وزارتِ خارجہ کے ذریعے سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی سفیر کو بھجوایا جائے گا اور وہ خود یا ان کا نمائندہ اسے سوئس اٹارنی جنرل کے حوالے کریں گے۔

وزیرِ قانون نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کو خط سوئس حکام تک پہنچانے کے لیے چار ہفتے کی مہلت درکار ہے جسے عدالت نے منظور کر لیا اور کہا کہ چار ہفتے بعد اس کی وصولی کی رسید عدالت میں پیش کی جائے۔

اس کے بعد عدالت نے مقدمے کی سماعت چودہ نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

سماعت کے بعد عدالت کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرِ قانون فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے خط کا مسودہ منظور کیے جانے کے بعد غیریقینی کی صورتحال ختم ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی قومی دولت نہیں لوٹی گئی اور صدرِ مملکت کے ٹرائل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ آج انصاف اور قانون کی فتح ہوئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔