BBC navigation

چودہ سالہ ملالہ پر طالبان کا حملہ

آخری وقت اشاعت:  منگل 9 اکتوبر 2012 ,‭ 08:24 GMT 13:24 PST

امن ایوارڈ یافتہ ملالہ یوسفزئی پر حملہ

بی بی سی اردو سروس میں گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھ کر عالمی شہرت حاصل کرنے والی ملالہ یوسفزئی سوات میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئی ہیں۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

بی بی سی اردو سروس میں گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھ کر عالمی شہرت حاصل کرنے والی ملالہ یوسفزئی سوات میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئی ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر سوات میں ایک سکول وین پر فائرنگ کی گئی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں امن ایوارڈ یافتہ طالبہ ملالہ یوسفزئی سمیت دو طالبات زخمی ہوگئی ہیں۔

فائرنگ کا یہ واقعہ منگل کو سوات کے صدر مقام مینگورہ میں پیش آیا۔

کلِک گل مکئی کی ڈائری پڑھیے

دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو فون پر بتایا کے ملالہ یوسف زئی پر حملہ اس لیے کیا گیا کیونکہ ان کے خیالات طالبان کے خلاف تھے۔

دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ یوسفزئی کو سیدو شریف سے اسلام آباد منتقل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر روانہ کردیا گیا ہے۔

تاہم ملالہ یوسفزئی کے والد کے اصرار پر ان کو پشاور منتقل کیا گیا۔ پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ملالہ یوسفزئی کو پشاور سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا ہے۔

پشاور میں ہمارے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے صوبائی سینیئر وزیر بشیر احمد بلور نے کہا کہ گولی اب بھی اندر ہی ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ملالہ کی زندگی کے لیے اگلے آٹھ سے دس روز نہایت اہم ہیں۔

" سینیئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور نے بتایا کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی فی الحال مالہ ہوش میں ہیں لیکن ان کی حالت تشویشناک ہے۔ پشاور کے سی ایم ایچ کے اندر صحافیوں کو جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ ابتدا میں یہ کہا جارہا تھا کہ ملالہ یوسفزئی کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال لایا جائے گا۔ بشیر بلور کے مطابق ملالہ ڈاکٹروں کی بات سمجھ رہی ہیں۔ جب ڈاکٹروں نے ملالہ سے کہا کہ زبان دکھاؤ تو انھوں نے زبان دکھائی اور جب ڈاکٹر نے کہا کہ آنکھیں دکھاؤ تو ملالہ نے انکھیں پوری کھول دی تھیں۔ "

عزیز اللہ خان

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

انہوں نے کہا کہ حملے سب پر ہو رہے ہیں اور ان پر خود بھی ہوئے ہیں۔ ’لیکن ملالہ یوسفزئی کو تحفظ فراہم کرنے کی زیادہ ضرورت تھی۔ ملالہ کو سکیورٹی فراہم کرنی چاہیے تھی اور سکیورٹی فراہم کرنا انتظامیہ کا کام تھا۔‘

پولیس اہلکار فضل الرحیم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ خواجہ آباد میں واقع ایک نجی سکول کی طالبات سکول وین میں سوار ہو رہی تھیں کہ اس دوران نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔

مقامی حکام کے مطابق نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چودہ سالہ ملالہ شدید زخمی ہوگئیں اور انہیں تشویش ناک حالت میں سیدو شریف کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

صد رآصف علی زرداری نےکہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی پر حملہ انتہا پسندی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت انتہا پسندی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پر عزم ہے۔

ملالہ یوسفزئی نے سوات میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن سے قبل علاقے کے حالات پر بی بی سی اردو کے لیے ’گل مکئی‘ کے قلمی نام سے ڈائری لکھ کر شہرت حاصل کی تھی۔

بعدازاں حکومتِ پاکستان نے انہیں سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر نقد انعام اور امن یوارڈ بھی دیا تھا۔ انہیں دو ہزار گیارہ میں ’انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز‘ کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔

ملالہ یوسفزئی کی نامزدگی

صوبہ خبیر پختونخوا کے ضلع سوات میں آٹھویں جماعت کی طالبہ، ملالہ یوسف زئی کو بچوں کے عالمی امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

ملالہ یوسف زئی کا تعلق سوات کے صدر مقام مینگورہ سے ہی ہے۔ سوات میں سنہ دو ہزار نو میں فوجی آپریشن سے پہلے حالات انتہائی کشیدہ تھے اور شدت پسند مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامی جنگجو وادی کے بیشتر علاقوں پر قابض تھے جبکہ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔

اس زمانے میں طالبان کے خوف سے اس صورتِ حال پر میڈیا میں بھی کوئی بات نہیں کرسکتا تھا۔

ان حالات میں ملالہ یوسف زئی نے کمسن ہوتے ہوئے بھی انتہائی جرت کا مظاہرہ کیا اور مینگورہ سے ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے بی بی سی اردو سروس کےلیے باقاعدگی سے ڈائری لکھنا شروع کی۔

اس ڈائری میں وہ سوات میں پیش آنے والے واقعات بیان کیا کرتی تھیں۔اس ڈائری کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ ان کی تحریریں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی باقاعدگی سے شائع ہونے لگیں۔

ملالہ پر میڈیا کے دو بین الاقوامی اداروں نے دستاویزی فلمیں بھی بنائیں جن میں انہوں نے کھل کر تعلیم پر پابندیوں کی بھر پور مخالفت کی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔