ڈرون حملوں کے خلاف ریلی،’وزیرستان داخلے پر پابندی‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 6 اکتوبر 2012 ,‭ 01:26 GMT 06:26 PST

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی ریلی کو ضلع ٹانک میں بھی داخل نہیں ہونے دیا جائے گا

پاکستان تحریک انصاف کی قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف ریلی آج سنیچر کو اسلام آباد سے جنوبی وزیرستان کے لیے روانہ ہو رہی ہے۔

قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے زیر انتظام ریلی کو قبائلی علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسلام آباد سے عمران خان کی قیادت میں ریلی سنیچر کی صبح روانہ ہوگی جبکہ پشاور اور دیگر شہروں سے بھی ریلیاں سنیچر کی صبح سے روانہ ہونا شروع ہو جائیں گی اور یہ سلسلہ رات تک جاری رہے گا۔

دریں اثناء کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے عمران خان کی قیادت میں وزیرستان تک مجوزہ امن ریلی کو تحفظ دینے کی پیشکش کی ہے۔

تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا کہ تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان ایک مغرب نواز سیاست دان ہیں جن کی ریلی کا مقصد ڈرون حملوں کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار نہیں بلکہ اپنے سیاسی قد میں اضافہ کرنا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے پولیٹیکل ایجنٹ شاہد اللہ خان نے ٹانک میں موجود ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کو مطلع کردیا گیا ہے کہ امن مارچ کو جنوبی وزیرستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تحریک انصاف نے پاکستانی حدود میں امریکی جاسوس طیاروں یعنی ڈرون حملوں کے خلاف قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سات اکتوبر کو جلسے کا اعلان کر رکھا ہے۔

تحریک انصاف نےڈرون حملوں کے خلاف جنوبی وزیرستان میں سات اکتوبر کو جلسے کا اعلان کر رکھا ہے

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی ترجمان نعیم الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہ ہے کہ ان کی ریلی کا مقصد امن ہے اور وہ کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں حکومت کی جانب سے کسی مقام پر روکا گیا تو وہ وہیں جلسہ کریں گے۔

نعیم الحق کا کہنا تھا کہ انہوں نے حفاظتی نقطۂ نظر سے سوچ بچار کر کے جنوبی وزیرستان جانے کا فیصلہ کیا۔ ان کے بقول جنوبی وزیرستان اتنا خطرناک علاقہ نہیں جتنا کہ شمالی وزیرستان ہے اور انہوں نے حکومت کو اپنے منصوبے کے بارے میں پہلے سے مطلع کر رکھا ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی ریلی کو ضلع ٹانک میں بھی داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلی کو ڈیرہ اسماعیل خان ہی میں روک دیا جائے گا۔

دوسری جانب حکام مقامی افراد کو تین روز سے کوٹکئی کے علاقے میں داخل ہونے نہیں دے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ریلی پر حملے کا بھی خدشہ ہے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے جلسے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان ، ٹانک اور کوٹکئی میں انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے مطابق ریلی میں شرکت کے لیے پشاور سے ایک بڑا جلوس سنیچر کی صبح ڈیرہ اسماعیل خان کے لیے روانہ ہوگا۔

پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق تحریک انصاف کے جلسے میں شرکت کے لیے آنے والے افراد کا پہلا پڑاؤ خیبر پختونخوا کا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان ہوگا جہاں علی فارم میں ایک کیمپ بنایا گیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈہ پور نے بتایا کہ سنیچر کو شام کے وقت ڈیرہ ٹانک روڈ پر ہتھالہ کے مقام پر عمران خان ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور مختلف قبائلی کے افراد سے خطاب کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ہتھالہ سے اتوار کی صبح وزیرستان کے لیے ریلی روانہ ہو گی لیکن راستے میں ٹانک میں بھی پڑاؤ ہے جہاں مرکزی رہنما خطاب کریں گے۔

ریلی میں غیر ملکی کارکنوں کی شرکت

قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں کے خلاف تحریک انصاف کی امن ریلی میں امن کے لیے کام کرنے والے امریکی اور برطانوی کارکن بھی شریک ہوں گے۔

جمعہ کو ان کارکنوں نے امن مارچ کی حمایت میں اسلام آباد کی مارکیٹوں میں مارچ بھی کیا اور نعرے لگائے کہ’ہم وزیرستان جا رہے ہیں، ڈرون حملے بند کرو۔‘

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مارچ میں شامل امریکی شہری فلم، ٹی وی آرٹسٹ ٹائیک بیری نے کہا’ وزیرستان میں معصوم لوگوں پر غیر قانونی، غیر اخلاقی اور ظالمانہ ڈرون حملے بند ہونے چاہیئیں، یہ غیر قانونی ڈرون حملے سی آئی اے کرتی ہے جو کہ ایک سویلین ادارہ ہے اور فوجی آلات کا استعمال کرتا ہے اور یہ ایک جنگی جرم ہے۔

کوڈ پینک کی کارکن لینڈا ویننگ نے کہا کہ’ڈرون حملے غیر قانونی ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، یہ پاکستان کی خودمختاری پر حملہ ہیں اور ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔