BBC navigation

اقوام متحدہ کے مشن سے پریشان نہ ہوں: حنا ربانی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 ستمبر 2012 ,‭ 14:12 GMT 19:12 PST
حنا ربانی کھر

یہ گروپ پاکستان کی حکومت کی دعوت پر آیا ہے: حنا ربانی کھر

پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے جبری گمشدگیوں کے بارے میں ورکنگ گروپ کے دورے پر کسی پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ گروپ پاکستانی حکومت کی دعوت پر آیا ہے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بعض اراکین کی جانب سے اقوام متحدہ کے گروپ کے دورے پر تحفظات ظاہر کیے جانے کے بعد اپنے پالیسی بیان میں کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے اس گروپ کو دعوت دینے سے پہلے حکومت نے تمام متعلقہ اداروں سے مشاورت بھی کی تھی۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ اقوام متحدہ کا جبری گمشدگیوں کے بارے میں ورکنگ گروپ کوئی تحقیقاتی کمیشن یا ‘فیکٹ فائنڈنگ مشن’ نہیں ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کا دو رکنی خصوصی وفد دس روزہ دورے پر دس ستمبر کو پہنچا ہے۔ اس وفد سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے یہ کہتے ہوئے ملنے سے انکار کردیا ہے کہ ان کی عدالت میں جبری گمشدگیوں کے بارے میں مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ انسانی حقوق کی کونسل سے متصل ادارہ ہے اور پاکستان میں انسانی حقوق کے بارے میں صورتحال اور قانون سازی کے علاوہ جمہوری حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لے گا اور ان کی رپورٹ پاکستان کے لیے مدد گار ثابت ہوگی۔ جیسا کہ ان کے بقول انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر نے دورہ کیا تھا اور اپنی رپورٹ میں ڈرون حملوں کی مخالفت کی تھی۔

پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان میں آزاد عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی موجود ہے اور کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے بقول ان کی گروپ کے نمائندوں سے ملاقات ہوئی ہے اور کسی کو غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے۔

قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کے نور عالم خان، آزاد رکن ظفر بھٹنی اور بعض دیگر اراکین نے خدشہ ظاہر کیا کہ پاکستان میں پہلے ہی سپریم کورٹ جبری گمشدگیوں کا از خود نوٹس لے چکی ہے اور پارلیمان کی قومی سلامتی کے بارے میں کمیٹی بھی سفارشات تیار کرچکی ہے اور ایسے میں اقوام متحدہ کے مشن کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اتنا ہی ضروری ہے تو کشمیر اور فاٹا کے بارے میں اقوامِ متحدہ اپنا مشن کیوں نہیں بھیجتا؟

ایڈووکیٹ عثمان بلوچ نے جبری گمشدگیوں کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے گروپ کے دورے کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ وہ وفاقی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے اس گروپ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے۔

"کسی بیرونی قوت کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے گھر کے حالات ٹھیک کرنے چاہیئیں پھر کسی سے چھپنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔"

بیگم عطیہ عنایت اللہ

انہوں نے کہا کہ فاٹا اور کشمیر کی صورتحال کا بلوچستان سے موازنہ نہ کیا جائے کیونکہ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے اغوا کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں اور اس میں سیکورٹی اسٹیبلشمینٹ ملوث ہے۔

مسلم لیگ (ق) کی بیگم عطیہ عنایت اللہ نے کہا کہ پاکستان کے اندورنی حالات بہت خراب ہیں اور اس ناسور کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بیرونی قوت کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنے گھر کے حالات ٹھیک کرنے چاہیئیں پھر کسی سے چھپنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے ایاز امیر نے کہا کہ بلوچستان کے حالات بہت خراب ہیں اور کچھ علاقوں میں پاکستان کا پرچم تک لہرانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح بنگالیوں کے ساتھ ہوا اور وہاں جنگ چل رہی تھی لیکن یہاں کہا جا رہا تھا سب ٹھیک ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم رو رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کا وفد کیوں آیا لیکن کسی نے یہ سوچا کہ ہم نے یہاں تک نوبت کیوں آنے دی؟

واضح رہے کہ پاکستان میں گذشتہ کئی برسوں سے جبری گمشدیوں کا سلسلہ چل رہا ہے اور کئی لوگوں کو اغوا کے بعد قتل کیا جاتا ہے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ زیادہ تر ایسی لاشیں بلوچستان سے ملتی ہیں جہاں بعض قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس میں ریاست کے سیکورٹی اور انٹیلی جنس ادارے ملوث ہیں۔ لیکن سیکورٹی ادارے اس کی تردید کرتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔