BBC navigation

’عدلیہ آزاد ہے، بہت آزاد ہے، آئین سے بھی آزاد ہو رہی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 7 اگست 2012 ,‭ 17:34 GMT 22:34 PST

’عدلیہ آئین سے بھی آزاد ہو رہی ہے‘

پاکستان کے معروف قانون دان اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ عدلیہ اب کچھ معاملات میں آئین سے آزاد ہو رہی ہے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کے معروف قانون دان اور سیاستدان اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ بعض معاملات میں عدلیہ آئین سے آزاد ہو رہی ہے، پاکستان کی سپریم کورٹ کی فعالیت یک طرفہ ہے، سب معاملات میں برابر نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ عدلیہ آزاد ہے، بہت زیادہ آزاد ہے ’بلکہ کئی جگہوں میں آئین سے بھی آزاد ہو رہی ہے۔‘

کلِک اعتزاز احسن کے انٹرویو کا حصہ اول

ا کلِک عتزاز احسن کے انٹرویو کا حصہ دوئم

کلِک اعتزاز احسن کے انٹرویو کا آخری حصہ

بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں اعتزاز احسن نے کہا کہ پارلیمان دو تہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کرسکتی ہے اور اسے عدالت میں چیلینج نہیں کیا جاسکتا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے پرویز مشرف کے خلاف ڈٹ جانے کی وجہ سے آج ملک میں جمہوری نظام مضبوط ہو رہا ہے تاہم بعد کے حالات کی وجہ سے اب عدلیہ کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نا اہل قرار دینا عدالت کا غلط فیصلہ تھا۔ جس مقدمے میں یوسف رضا گیلانی کو نا اہل قرار دیا گیا وہ نا اہلی کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ عدالت کے دائرۂ اختیار کا تھا۔ انھوں نے کہا کہ جب آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ سربراہِ مملکت پر مقدمہ نہیں چل سکتا ہے تو سپریم کورٹ کس طرح کسی دوسرے ملک میں اپنے صدر پر مقدمہ چلانے کا حکم دے سکتی ہے؟

چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کی تقریر کہ عدلیہ پارلیمان کو آئینی ترمیم سے روک سکتی ہے سپریم کورٹ کہ اپنے فیصلوں سے متصادم ہے۔ سادہ اکثریت سے بنائے گئے قانون پر تو سپریم کورٹ یہ غور کرسکتی ہے کہ کہیں مذکورہ قانون آئین کی کسی شق سےمتصادم تو نہیں مگر اگر پارلیمان دو تہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کرے تو اسے عدالت میں چیلینج نہیں کیا جاسکتا ہے۔

’عدلیہ آئین سے بھی آزاد ہو رہی ہے‘

پاکستان کے معروف قانون دان اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ عدلیہ اب کچھ معاملات میں آئین سے آزاد ہو رہی ہے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

تاہم انھوں نے کہا کہ اب پاکستان میں فوج کے اقتدار کرنے کا خطرہ نہیں ہے کونکہ موجودہ عدالت نے ایسے فیصلے سنائے ہیں جس سے مارشل لا کا امکان ختم ہو گیا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کہ اپنے بیٹے کے بارے میں سپریم کورٹ میں جو کارروائی ہو رہی ہے اس کی وجہ سے اب یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا عدلیہ کا توازن برقرار رہ سکے گا یا نہیں۔ انھوں نے کہا اس وقت ڈاکٹر ارسلان اور ملک ریاض کے مبینہ لین دین کے معاملے میں عدلیہ تفتیش کے مروجہ اصولوں سے ہٹ کر فیصلے کر ہی ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی اور عدلیہ کےلیے چلائی جانے والی تحریک پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ یہ ایک عوامی فتح کی تحریک تھی۔

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیابی بھی حاصل کرے گی اور دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی کیونکہ صدر آصف علی زرداری مخلو ط حکومت بنانے کا کافی تجربہ رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔