BBC navigation

’پاکستان امریکی سفارتکاروں کو ہراساں کر رہا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 جون 2012 ,‭ 00:30 GMT 05:30 PST
امریکی وزارتِ خارجہ

رپورٹ کے مطابق سفارتکاروں کو فرض کی ادائیگی میں مشکل آ رہی ہے

امریکی وزارتِ خارجہ کی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی حکام کی طرف سے پاکستان میں تعینات امریکی سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں ڈرامائی طور پر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ اس نہج پر پہنچ گیا ہے کہ ان کا کام بہت حد تک متاثر ہو رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کی دانستہ طور پر اور مربوط منصوبے کے تحت کی جانے والی مداخلت ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر حملے اور سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے، جس میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے تھے، کے بعد بہت بڑھ گئی ہے۔

مشن کے کام میں رکاوٹ کبھی ویزا دینے میں دیر، تعمیراتی کاموں میں امداد میں رکاوٹ، اور اہلکاروں اور کانٹریکٹرز کی جاسوسی جیسے طریقوں سے پیدا کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو چاہیئے کہ وہ اس مسئلے کو پاکستان کے ساتھ اعلیٰ سطح پر اٹھائے۔

ادھر امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس نے امریکہ پاکستان تعلقات پر ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے جس میں جہاں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شہری و سلامتی اداروں کی ہزاروں جانوں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور پاکستان امریکہ تعلقات میں بہتری کیلیے پاکستان میں سول حکومت کو مضبوط تر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے وہاں اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکہ اور پاکستان کے درمیاں تعلقات کافی حد تک منفی سمت میں چل رہے ہیں۔

امریکی کانگریس کے تحقیق کاروں نے امریکی انٹیلیجنس اداروں کی رپورٹوں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے اندر شدت پسند تنظیم القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری اور طالبال کے سربراہ ملا عمر سمیت کئی انتہائی مطلوبہ افراد پناہ لیے ہوئے ہیں- رپورٹ میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ ایمن الظواہری کی پاکستان میں موجودگی کا کئی پاکستانی حکام کو پہلے سے ہی علم ہے۔

امریکی کانگریس کی طرف سے پاکستان۔امریکہ تعلقات پر ساٹھ صفحات پر مشتمل رپورٹ امریکی محکمہ خارجہ کے فارن پریس سینٹر کی طرف سے جاری کی گئی۔

کانگریس ریسرچ سروس یا سی آر ایس کی طرف سے شائع کی گئی اس رپورٹ کے مصنف امریکی کانگریس کے جنوبی ایشیائي امور کے ماہر کے ایلن کرونسٹاڈٹ ہیں۔

پاکستان۔امریکہ تعققات پر امریکی کانگرس کے اس تحقیقی رپورٹ کے آغاز میں واضح طور کہا گیا ہے کہ ایک مستحکم اور مضبوط جمہوری اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سرگرم پاکستان امریکہ کے انتہائي مفاد میں ہے۔ نیز یہ بھی کہ پاکستان۔امریکہ تعلقات کی مضبوطی کیلیے پاکستان میں ایک مضبوط سول حکومت کی حمایت ضروری ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے ہے کہ دہشگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری قیت ادا کی ہے جس میں اسکے سینتیس ہزار شہریوں، چھ ہزار تین سو سیکورٹی اہلکاروں کی جانیں گئی ہیں اور پاکستان کو اٹھہتر بلین ڈالر کا معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔

امریکی کانگریس کی رپورٹ میں امریکہ کے انسداد دہشتگردی کے مرکز کی رپورٹوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دو ہزار گیارہ میں پاکستان میں ہر ہفتے اوسطاً چھبیس خود کش حملے ہوئے جسکی اس سے قبل ایسی مثالیں فقط عراق اور افغانستان میں ملتی ہیں۔

تاہم رپورٹ میں پاکستان اور امریکہ کے درمیاں تعلقات کے حوالے سے دونوں ملکوں کی طرف سے سال دو ہزار گیارہ اور رواں سال تک کے پالیسی فیصلوں اور واقعات کا تفصیلی سے ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں اٹھتے ہی یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ اگرچہ پاکستان اور امریکہ کے درمیاں تعلقات چل رہے ہیں لیکن دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی موجودہ نوعیت انتہائي منفی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے تعلقات میں بگاڑ کا آغاز ریمنڈ ڈیوس سے ہوا جو پھر اسامہ بن لادن کے پاکستان میں ملنے اور پھر ان کی ہلاکت سے لیکر سلالہ چوکی پر نیٹو حملے اور پھر نیٹو رسد سپلائی کی معطلی اور اب ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ملنے والی سزا تک گیا۔ رپورٹ میں پنجاب کے گورنرسلمان تاثیر اور اقلیتی وزیر شہباز بھٹی، اور صحافی سلیم شہزاد کے قتل کے واقعات اور میمو گیٹ، اور کانگریس میں بلوچستان پر بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

امریکی کانگریس مین ڈان روبا ہارکر کی طرف سے بلوچستان پر بلائی جانے والی عوامی سماعت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے اوباما انتظامیہ نے خود کو پرے رکھا اور واضع کیا کہ وہ بلوچستان میں آزادی کی تحریک کی حمایت نہیں کرتی۔

سلالہ چوکی پر نیٹو کے حملے کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سال نومبر میں یہ واقعہ تب پیش آیا جب اس سے پہلے پاکستانی چوکی سے نیٹو فوجیوں پر فائرنگ کے دو واقعات پیش آئے۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ نیٹو افواج کی کارروائی قواعد کے تحت تھی۔

رپورٹ میں سلالہ چوکی پر حملے کے بعد امریکہ۔پاکستان تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہوجانے کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ حال ہی میں شکاگو میں افغانستان پر ہونے والی کانفرنس کے موقع پر میڈیا رپورٹوں میں پاکستان کی طرف سے پانچ ہزار ڈالر فی ٹرک مانگنے اور امریکہ سے معافی کا مطالبہ کرنے پر بضد ہونے سے پاکستان سفارتی تنہائي کا شکار ہوگیا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔