BBC navigation

لیاری: پولیس کو سخت مزاحمت کا سامنا

آخری وقت اشاعت:  پير 30 اپريل 2012 ,‭ 16:22 GMT 21:22 PST
کراچی آپریشن

پولیس کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد کشیدگی کو دوسرے علاقوں تک پھیلانا چاہتے ہیں

کراچی کے ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل پولیس اختر حسین گورچانی نے کہا ہے کہ لیاری میں جاری آپریشن کے دوران پولیس کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی سے بات کرتے ہوئے اختر حسین گورچانی کا کہنا تھا لیاری کی تنگ گلیوں میں مسلح افراد کو پولیس کے خلاف ایک ایڈوانٹیج حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تنگ گلیوں کی اور جڑے ہوئے مکانوں کی وجہ سے پولیس کو بہت بڑا گھیرا ڈالنا پڑتا ہے اور پولیس جب بھی کسی مکان پر چھاپہ مارتی ہے تو ملزمان ایک سے دوسرے پھر تیسرےگھر نکل جاتے ہیں جس سے ان کے منظم ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزاحمت شدید ہے اور انہیں جدید قسم کے ہتھیار مل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں بلوچ مزاحمت کار کی موجودگی کاذکر تو ہوتا رہا ہے مگر اب خدشہ ہے کہ ان افراد کو تحریک طالبان کی بھی مدد مل رہی ہے کیونکہ یہ تنظیم صرف حکومت کے خلاف ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں شیعہ افراد کے قتل کے پیچھے بھی تحریک طالبان کا ہاتھ ہے جو ان کی کراچی میں موجودگی کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک لیاری میں ان کے خلاف آپریشن شروع نہیں کیا گیا تھا کراچی کے دیگر علاقے بھی متاثر ہوتے تھے مگر جب سے آپریشن شروع کیا ہے باقی شہر میں امن ہوگیا ہے۔

اے آئی جی کراچی نے کہا کہ آپریشن کے دوران کم از کم چھ مزاحمت کار بھی مارے گئے ہیں جبکہ پچیس کے قریب گرفتار بھی ہوئے ہیں مگر کیونکہ پولیس وہاں نہیں جا سکتی اس لیے وہ ان کی لاشوں کو وہاں سے باہر منتقل کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑے ناموں میں سہیل اور نعیم لاہوتی مارے گئے ہیں اور شاہ جہاں نامی ایک اور شخص گرفتار بھی ہوا ہے۔

اختر حسین گورچانی نے بتایا کہ مزاحمت کی شدت دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ سلسلہ ابھی کچھ روز اور جاری رہے گا اگرچہ کوشش ہے کہ کام جلد مکمل کرلیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن کا سلسلہ لیاری کی تنگ گلیوں تک ہی محدود ہے اور اس علاقے کے رہنے والے یہاں سے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ جس حد تک ممکن ہو عوام کی مدد کر رہے ہیں۔

دوسری جانب پولیس کے مطابق پیر کی صبح آٹھ بجے شیرشاہ کی کباڑی مارکیٹ کے قریب واقع پراچہ چوک پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی جس سے تین افراد ہلاک ہوگئے۔

فائرنگ کے واقعے کے بعد مسلح افراد نے دو منی بسوں کو آگ لگا دی ۔ بعد میں لیاری کے قریبی علاقے کلری میں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر دو مزید افراد کو قتل کر دیا ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعات بھی لیاری آپریشن کا ردعمل ہے اور لیاری کے جرائم پیشہ افراد لیاری میں جاری کشیدگی کو دوسرے علاقوں میں بھی پھیلانا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب لیاری میں جاری آپریشن کے دوران مسلح افراد کی جانب سے دستی بم اور راکٹوں کا آزادانہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔