BBC navigation

گولیوں سے چور لیاری

آخری وقت اشاعت:  منگل 1 مئ 2012 ,‭ 22:52 GMT 03:52 PST

پولیس کو اس آپریشن کے دوران تیس مطلوب ملزمان کی تلاش ہے

لیاری میں جس طرح عام لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اس کی مثال تو وزیرستان آپریشن اور افغانستان میں طالبان کے خلاف آپریشن بھی نظر نہیں آئی تھی، یہ الفاظ لیاری کی ایک طالبہ نجمہ بلوچ کے ہیں، جس نے کئی نیوز چینلز کو ٹیلیفون پر شکایت کرنے کے بعد بی بی سی کو دوہائی دینے کی کوشش کی تھی۔

نجمہ بلوچ گزشتہ چار روز سے لیاری میں جاری آپریشن کی وجہ سے پریشان ہیں، جس وقت وہ ٹیلیفون پر صورت حال بیان کر رہی تھیں اس وقت بھی فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، بقول ان کے وہ کمروں میں محدود ہوکر رہے گئے ہیں، دیواروں میں گولیوں کے نشانات موجود ہیں اب گولیاں صحن میں آ کر گرتی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لیاری میں گینگ وار اور بھتہ خوروں کے خلاف آپریشن جاری ہے، آئی جی مشتاق بھی اعلان کرچکے ہیں کہ کامیابی تک یہ آپریشن جاری رہیگا، پولیس کو اس آپریشن کے دوران تیس مطلوب ملزمان کی تلاش ہے۔

نجمہ بلوچ سوال کرتی ہیں کہ کیا چند جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری کے لیے شہر میں کسی اور علاقے میں اس نوعیت کا آپریشن کیا گیا ہے؟۔

سہراب گوٹھ میں طالبان کی موجودگی کی خبریں آتی رہتی ہیں، کٹی پہاڑی پر گزشتہ سال پانچ روز تک جنگ رہی مگر پولیس کی وہاں کوئی کارروائی نہیں نظر آئی۔

لیاری میں بجلی اور پانی کی فراہمی معطل تھی جبکہ پیر سے موبائل ٹیلیفون کے سگنل بھی بند ہوگئے ہیں۔

نجمہ کے مطابق اس مشکلات میں زندگی کیسے گزر سکتی ہے؟ اس سے اچھا ہے کہ ایک ایٹم بم لائیں اور یہاں پھینک دیں تاکہ ان کا مقصد پورا ہو جائے۔

لیاری سے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول کا کہنا ہے کہ ملزمان اگر گرفتاری پیش کر دیں تو وہ ان کی جان کی ضمانت دینے کے لیے تیار ہیں، مگر ان کی اس پیشکش کو ابھی تک پذیرائی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔

"اس مشکلات میں زندگی کیسے گزر سکتی ہے؟ اس سے اچھا ہے کہ ایک ایٹم بم لائیں اور یہاں پھینک دیں تاکہ ان کا مقصد پورا ہو جائے"

یاری کی ایک طالبہ نجمہ بلوچ

سندھی اخبار کے کالم نویس اشفاق آزر نے اپنے حالیہ کالم میں اس صورت حال کو بیان کرتے ہوئے لکتھے ہیں کہ لیاری کی نوجوان نسل کو جس کرب اور اذیت کا سامنا ہے، اس میں گولیوں کی بارش، آنسو گیس کی شیلنگ، جسموں میں پوست گولیاں ان کی پرورش کر رہی ہیں ان حالات میں کیسے ممکن ہے کہ یہ نسل پولیس کی جانب سے مجرم قرار دیئے گئے رحمان ڈکیت اور ارشد پپو کا تسلسل نہیں بنیں گے۔

کراچی میں اس نوعیت کے آپریشن کے قصے نوے کی دہائی میں بھی سامنے آئے تھے، جب ایم کیو ایم کے مبینہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کیا گیا، مگر بعد میں اس کے سنگین نتائج سامنے آئے۔ اس آپریشن میں علاقہ اور لوگ مختلف ہیں مگر پولیس کی کمان کرنے والے وہ ہی کردار ہیں۔

گولیوں سے چور اور منشیات سے نڈھال لیاری کی شناخت کے حوالے کبھی فٹبال، باکسنگ، سائیکلنگ، ادب، صحافت، جمہوری اور بلوچ قومپرست تحریک ہوا کرتی تھیں، مگر محنت مزدوری سے وابستہ ان لوگوں کی شناخت وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی گئی تاہم ماضی کی خوبیاں ان میں آج بھی موجود ہیں۔

پاکستان بننے سے پہلے جمعیت علمائے ہند اور انڈین کانگریس سے قربت رکھنے والے لیاری کے لوگوں نے بعد میں بھی اپنی روشن خیالی کو برقرار رکھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کے لیے پہلی موثر آواز لیاری سے اٹھی تھی، بزرگ سیاسی کارکن اور صحافی رحیم بخش آزاد کو ابھی تک وہ لمحات یاد ہیں کہ بھٹو کس طرح فجر تک ایک ایک گلی سے گذرے تھے اور اہل لیاری نے کس والہانہ انداز میں ان کا استقبال کیا تھا۔

لیاری میں بجلی اور پانی کی فراہمی معطل ہے

کراچی کی تاریخ سیاست اور سماجیات پر کتاب کے مصنف گل حسن کلمتی لیاری میں جرائمہ پیشہ افراد کے عروج میں سیاسی عنصر کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

اپنی کتاب ’کراچی سندھ کی ماری‘ میں وہ لکھتے ہیں کہ فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت میں یہاں کے منشیات فروشوں کی سرپرستی کا آغاز ہوا، جس میں کراچی کا مشہور سیاسی اور سماجی خاندان ملوث رہا، سنہ انیس سو تہتر میں جب پاکستان پیپلز پارٹی مقبول ہوئی تو یہ لوگ اس طرف چلے گئے اور مقامی سیاسی خاندان نے ان کی سرپرستی کی۔

کراچی کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی، اتقصادی اور سماجی صورت حال نے لیاری کو ترقی کے بجائے پیچھے دھکیل دیا، شہر پر جب ایک ہی جماعت کا تسلط قائم ہوا تو مخالف جماعت کے ہمدروں کا یہ علاقہ تمام سہولیات سے محروم ہوتا گیا اور یہ سلسلہ دو عشروں تک جاری رہا۔

نامور ڈرامہ نویس امرجلیل نے ایک بار کہا تھا کہ کسی زمانے میں ہر بس پر ڈرائیور یا کنڈیکٹر مکرانی ہوتے تھے جو لیاری سے تعلق رکھتے تھے، لالو کھیت سے لیکر ٹاور تک کئی مکرانی شکل و صورت اور مخصوص لہجے والے یہ لوگ نظر آجاتے تھے مگر اب یہ ڈھونڈنے سے نہیں ملتے۔

فٹبال کے رسیا لیاری کے لوگوں کے لیے بینظیر بھٹو نے تمام سرکاری محکموں میں فٹبال کا کوٹہ مختص کردیا، جس سے یہ لوگ سیاسی ملازمتوں میں داخل ہوئے مگر بعد میں جنرل پرویز مشرف نے یہ کوٹہ ختم کردیا ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لیاری میں بلوچستان لبریشن آرمی کے لوگ مزاحمت کر رہے ہیں جبکہ اس سے دو روز پہلے پولیس کا کہنا تھا کہ یہاں مذہبی شدت پسند تنظیمیں موجود ہیں۔

پولیس چاہے کچھ بھی کہے مگر لیاری میں بلوچ قومپرست برسوں سے موجود ہیں، سنہ انیس سو انتیس میں اسی لیاری میں بلوچ لیگ کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کے بارے میں میر غوث بخش بزنجو نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ یہ پہلی بلوچ جماعت تھی۔

کراچی پریس کلب کے سامنے جو آزاد بلوچستان کے نعرے اور لاپتہ سیاسی کارکنوں کی بازیابی کے مطالبات کرتے ہیں وہ نوجوان لیاری سے ہی آتے ہیں۔

گیتوں کی بجائے آج لیاری میں گولیاں گونجتی ہیں

نواب اکبر بگٹی کی فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد سب سے شدید رد عمل لیاری میں تھا، جب ایک چودہ سالہ لڑکے نے رینجرز کے انسپکٹر کے ہاتھ میں موجود پستول اپنے سینے پر رکھ کر کہا تھا چلاؤ گولی۔

بلوچستان کے نامور گلوکار فیض محمد بلوچ کے گیتوں اور لیوا کے تھاپ کے بجائے آج لیاری میں گولیاں گونجتی ہیں، فٹبال کے عالمی کھلاڑی محمد عمر بلوچ کی دہرتی کو اب دنیا منشیات فروشوں کی جنت سمجھتی ہے۔ مگر کیا اس سے پہلے ریاستی اداروں کو اس کا علم نہیں تھا؟۔

شاندار ماضی اور بدترین حال کے مالک لیاری آنے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا حلقہ انتخاب ہوگا، مگر اس صورت حال میں لیاری کے لوگوں کا کیا رد عمل ہوگا، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ کیونکہ یہاں کے لوگوں کی محبت اور وفاداری ابھی تک غیر مشروط رہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔