BBC navigation

کوئٹہ: ہلاکتوں کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال

آخری وقت اشاعت:  اتوار 15 اپريل 2012 ,‭ 07:49 GMT 12:49 PST

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سنیچر کو فائرنگ کے واقعات میں نو ہلاکتوں کے خلاف جزوی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔

شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی مختلف تنظیموں نے ٹارگٹ کلنگ کے مسلسل واقعات کے خلاف اتوار کو کوئٹہ میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کرنے کااعلان کیا تھا۔

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے آج اتوار کو کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے جس میں آئی جی ایف سی اور آئی جی پولیس سمیت دیگرمتعلقہ حکام شرکت کریں گے۔جس کے بعد شیعہ سنی علماء کا اجلاس بھی ہوگا جس میں مذہبی بھائی چارے کو پروان چڑھانے اور امن کو یقینی بنانے کےلیے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

سنیچر کو فائرنگ کے ان واقعات کے بعد کوئٹہ شہر میں دن بھر حالات کشیدہ رہے جس پرقابو پانے کے لیے حکومت نے فرنٹئیرکور کی دس پلاٹون طلب کر لی گئی تھیں۔

کلِک ’صرف فارسی بولنے والے شیعہ کیوں؟‘

کلِک ’یہ عناصر دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے ہیں‘

کلِک ’ہزاروں افراد ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں‘

کلِک ’مختلف عناصر مگر مقصد ایک ہے‘

اتوار کو کوئٹہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کے موقع پر سکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں اور تاحال کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

سنیچر کے روز فائرنگ کے واقعات میں زخمی ہونے والا ایک اور نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں چل بسا جس سے ہلاکتوں کی تعداد نو تک پہنچ گئی جن میں سے آٹھ کا تعلق شیعہ مسلک اور ہزارہ قبیلے سے تھا۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ نصیب اللہ بازئی کی صدارت میں ایک اہم اجلاس ہوا۔جس میں فیصلہ کیاگیا کہ کوئٹہ شہر میں قیام امن کے لیے دوسرے اضلاع سے دوسو اہلکار طلب کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ ایران جانے والے زائرین پر حملوں کا خدشتہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ٹارگٹ کلنگ

ہزارہ قبیلے کی مختلف تنظیموں کے مطابق سال دو ہزار پانچ سے ٹارگٹ کلنگ میں اب تک ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے چھ سو ساٹھ افراد ہلاک جبکہ اس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

اس سلسلے میں ضلع کوئٹہ، مستونگ، نوشکی اور چاغی کے ڈپٹی کمشنروں کوہدایت کی گئی ہے کہ وہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کی روک تھام کےلیے زائرین کی حفاظت کے لیے مزید سخت اقدامات کریں۔

ہزارہ قبیلے کی مختلف تنظیموں نے کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مستعفی ہونے اور گورنر راج نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ ایسے واقعات کے رونماء ہونے کے بعد جو کچھ ہوگا اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ بقول ان کے سال دو ہزار پانچ سے ٹارگٹ کلنگ میں اب تک ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے چھ سو ساٹھ افراد ہلاک جبکہ اس سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ جمعہ کو گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی نے ایک اعلی سطحی اجلاس میں کوئٹہ شہر میں امن وامان کی صورتحال پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے صوبائی حکومت کو سخت اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔

دوسری جانب ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے سات افراد کو کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔