BBC navigation

’عطیہ زندگی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 15 اپريل 2012 ,‭ 20:19 GMT 01:19 PST
آکاش راج

سڑک اور عمارت کے درمیان کئی پریشان حال مریضوں، تیمارداوں اور ان کے رشتے داروں کے بیچ سے گزرتا ہوا ایک چودہ سالہ بچہ پانچویں منزل پر پہنچتا ہے، جہاں ایک ہال میں مختلف پوسٹر لگے ہوئے اور کچھ ڈاکٹر بیٹھے ہیں، یہ بچہ ایک فارم لیتا ہے جس پر دو دیئے روشن ہیں اور پھر وہ فارم پر کرتا ہے۔

’عطیہ زندگی‘ کے نام سے اس پروفارما کے مطابق آٹھویں جماعت کے طالب علم آکاش راج نے اپنے اعضاء بعد از مرگ عطیہ کردیئے ہیں۔

آکاش راج کا کہنا ہے کہ ان کے والد نے انہیں اعضاء کے عطیے کے بارے میں بتایا تھا اور مشورہ دیا تھا کہ وہ بھی ایسا کرسکتے ہیں۔

’مجھے اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا اگر یہ اعضاء مرنے کے بعد بھی میرے اندر ہی رہیں مگر اس سے دوسروں کو فائدہ ہوسکتا ہے، اس لیے میں نے اعضاء عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔‘

کراچی میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن نے لوگوں میں اعضاء بطور عطیات دینے کے لیے پانچ روز تک مہم چلائی، جس کے نتیجے میں ایک سو بتیس افراد نے بعد از مرگ اپنے اعضاء بطور عطیہ دینے کا فارم جمع کرایا ، جن میں آکاش راج بھی شامل ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اعضاء کے ناکارہ ہونے کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، جن میں دل، گردے، جگر لبلبے کا فیل ہونا شامل ہیں۔

سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے ڈاکٹر ناصر حسن کا کہنا ہے کہ جب اعضاء کام کرنا چھوڑ دیں تو اس کا ایک ہی علاج ہوتا ہے وہ یہ کہ ان کی پیوندکاری کی جائے۔

بعض اعضاء ایسے ہوتے ہیں جو زندہ عزیز و اقارب سے لیے جاسکتے ہیں جیسے گردے یا جگر کا کچھ حصہ ہے مگر اس طرح اعضاء کی کمی کو پورا نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ بعد از مرگ اعضاء کا عطیہ جو پوری دنیا میں دیا جاتا ہے۔

طبی ماہرین کے اندازے کے مطابق ہر سال پچاس ہزار افراد اعضاء ناکارہ ہونے کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بقول ان کے یہ اموات ایسی ہیں، جنہیں روکا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر ناصر حسن کا کہنا ہے کہ اعضاء وہ ہی لوگ عطیہ کرسکتے ہیں جن کی موت وینٹیلیٹر ( مصنوعی تنفس کا آلہ) پر ہوتی ہے کیونکہ ان کے اعضاء کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے، تاہم طبی طور پر جو اموات گھر میں ہوتی ہیں ان افراد کے اعضا کارآمد نہیں رہتے اسی وجہ سے انہیں عطیے میں نہیں دیا جاسکتا۔

پاکستان میں لوگوں میں بعد از مرگ اعضا بطور عطیہ دینے کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے، عوام میں آگاہی کے لیے صدر پاکستان آصف علی زرداری، اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا، سماجی خدمت گار عبدالستار ایدھی سمیت کچھ ڈاکٹروں، مصنفین، سمیت کچھ ریٹائرڈ فوجی جرنیل اعضاء عطیہ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

ڈاکٹر ناصر حسن کا کہنا ہے کہ آگاہی کی کمی ہے کیونکہ لوگوں کو اس طرح کے عطیات کا پتہ نہیں، اس کے ساتھ کچھ تھوڑا یہ خوف بھی ہے کہ اعضاء نکالنے سے مردے کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ مگر یہ سب غلط ہے۔

سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے ڈاکٹر مرلی لال کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اعضاء عطیہ کرنے والوں میں کم اور زیادہ پڑھے لکھے دونوں ہی شامل ہیں، بقول ان کے وہ باشعور تو اسی کو سمجھتے ہیں جو یہ سمجھے کہ اعضاء کا یہ عطیہ ضرورت مند لوگوں کے لیے ہے۔

سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور تھر پاکر میں بھی آگاہی کی مہم چلانے کا اردہ رکھتا ہے تاکہ لوگ اعضاء کے عطیات کی اہمیت اور افادیت جان سکیں۔

ایسا لگتا ہے کہ کراچی میں نسلی، فرقہ وارانہ اور سیاسی مخالفت کی بنیاد پر زندگیاں چھیننے والے بہت ہیں مگر دوسروں کو زندگیاں دینے والے انتہائی کم ہیں۔ نہ جانے کہاں سے یہ خیال میرے ذہن میں ٹھہر سا گیا، اسی احساس کے ساتھ میں نے اور ہمارے کیمرہ مین جاوید اقبال نے بھی ’عطیہ زندگی ہے‘ کا فارم بھردیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔