BBC navigation

تاوان نہ ملنے پر مغوی اہلکار ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 20 مارچ 2012 ,‭ 12:29 GMT 17:29 PST

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان نے تاوان کی ادائیگی نہ کرنے پر ’بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام‘ کے ایک اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے لیکن تاحال لاش ورثاء کے حوالے نہیں کی گئی۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق طالبان نے گزشتہ سال تیرہ دسمبر کو بلوچستان کے ضلع پیش کے علاقے برشور سے بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام ( بی آرایس پی) کے چھ اہلکاروں کو اغواء کیا اور مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے انہیں وزیرستان کے علاقے ٹانک پہنچا دیا تھا جن میں سینیئر سوشل آرگنائزر سید مجیب الرحمان ولد سید عتیق اللہ، مقبول احمد ولد نظام الدین، بشیراحمد ولد شمس محمد، آفتاب احمد ولد محمد سلطان جونیئر سوشل آرگنائزر، بور محمد کاکڑ ولد نظیر احمد اور عبدالغفور ولد محمد علی شامل ہیں۔

تاہم طالبان نے اغواء کیے گئے افراد کے ورثاء اور بی آرایس پی سے چالیس کروڑ روپے تاوان کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔

مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے صوبائی حکومت اور بی آر ایس پی نےوفاقی سطح پرطالبان کی شاہین گروپ نامی تنظیم سے کئی بار رابطہ کیا لیکن شاہین گروپ نے پہلے مرحلے میں چالیس کروڑ روپے کامطالبہ کیا تاہم بعد میں یہ مطالبہ تیس23 کروڑ روپے تک آگیا۔

اس دوران حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ منقطع ہوگیا اور نتیجے میں طالبان نے تاوان کی ادائیگی نہ ہونے کے باعث بی آر ایس پی کے اہلکار مقبول احمد کو گولی مارکر ہلاک کردیا۔تاہم انکی ہلاکت کی ویڈیو فلم ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔

کوئٹہ میں بی آر ایس پی کے ذرائع کے مطابق مقبول احمد کچلاک کے رہائشی تھے۔

دوسری جانب بلوچستان اسمبلی کے اکثر ارکان نے مقبول احمد کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اس سے ایک غیر انسانی فعل قرار دیا ہے۔

جمعیت علماء اسلام سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر مولوی عبدالباری نےکہا ہے کہ اسلام کسی کو کسی کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا ہے اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں وہ پیسوں کے حصول کے لیے اسلام بدنام کر رہے ہیں۔

تاہم عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر زمرک خان اچکزئی نے مقبول احمدکی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت باقی پانچ مغوی اہلکاروں کی بحفاظت بازیانی کے لیے تمام وسائل بروئے کارلارہی ہے۔

"مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے صوبائی حکومت اور بی آر ایس پی نےوفاقی سطع پرطالبان کے شائین گروپ نامی تنظیم سے کئی بار رابطہ کیا لیکن شاہین گروپ نے پہلے مرحلے میں چالیس کروڑ روپے کامطالبہ کیا تاہم بعد میں یہ مطالبہ تیس23 کروڑ روپے تک آگیا۔"

مقبول احمد کی ہلاکت کی اطلاع ملنے کے بعد بی آر ایس پی نے صوبہ بھر میں تین دن سوگ مناتے ہوئے اپنے دفاتر بند کر دیے ہیں۔

کوئٹہ میں بی آرایس پی کے ذرائع کے مطابق مقبول احمد کی ہلاکت کے بعد بھی طالبان نے خبردار کیا ہے کہ اگر بیس اپریل تک تیس23 کروڑ روپے تاوان ادا نہ کی گئی تو باقی پانچ اہلکاروں کو بھی قتل کردیاجائےگا۔

خیال رہے کہ بی آر ایس پی ایک غیرسرکاری تنظیم ہے جو بلوچستان کے دور آفتادہ اور پسماندہ علاقوں میں تعلیم، صحت اور عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے علاوہ مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے تاکہ ان علاقوں میں غریب عوام کی معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جاسکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔