BBC navigation

صرف ایک گولی کا خول اور نشان ملا: اسامہ کمیشن

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 مارچ 2012 ,‭ 09:17 GMT 14:17 PST

گولی کا یہ نشان دیوار میں اتنی بلندی پر موجود ہے کہ جیسے گھٹنا زمین پر ٹیک کر یہ گولی چلائی گئی ہو: رپورٹ

پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی اور ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے دو مئی کو ایبٹ آباد میں پیش آنے والے واقعات کو قلمبند کرنے کا کام مکمل کر لیا ہے۔

ایبٹ آباد کمیشن کی اس زیر تحریر رپورٹ میں دو مئی کے روز پیش آنے والے واقعات کی جو تفصیل بیان کی گئی ہے وہ بعض حوالوں سے امریکہ کی جانب سے واقعات کے بیان سے مختلف ہے۔ رپورٹ کے اس حصے میں دو مئی کی کارروائی پر امریکی موقف کے بارے میں بعض سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔

یہ رپورٹ دو مئی کے واقعات کے بارے میں پاکستان کی جانب سے پہلا باضابطہ بیان ہو گا۔ ابھی تک کسی پاکستانی اہلکار نے اس روز ایبٹ آباد میں پیش آنے والے واقعات کی سرکاری تفصیل بیان نہیں کی ہے۔

ایبٹ آباد کمیشن کے ارکان نے ایک طرف اب تک اس معاملے کی تفتیش جاری رکھی ہوئی ہے تو دوسری جانب اسامہ بن لادن کی پاکستان میں روپوشی، ان کی ہلاکت کے لیے امریکی فوجیوں کی کارروائی اور ان دونوں واقعات کو رونماء ہونے سے روکنے میں پاکستانی اداروں کی کوتاہی پر جامع رپورٹ تحریر کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔

کمیشن کے ارکان نے رپورٹ تحریر کرنے کے لیے آپس میں ذمہ داریاں بانٹ لی ہیں اور اس کے مختلف پہلوؤں پر مختلف ارکان توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

کمیشن کے ایک رکن نے دو مئی کے روز پیش آنے والے واقعات کو قلمبند کیا ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل کی بنیاد اسامہ بن لادن کے اہل خانہ، اہل محلہ اور امریکی کارروائی مکمل ہونے کے بعد وہاں داخل ہونے والے سرکاری اہلکاروں کے بیانات ہیں۔

سوال

رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اسامہ کے ساتھیوں نے حملہ آور امریکی فوجیوں پر ایک بھی گولی کیوں نہیں چلائی۔ کیونکہ امریکی حکام کا بیان ہے کہ اس پوری کارروائی میں اس کا کوئی اہلکار دشمن کی گولی کا نشانہ نہیں بنا۔ اب اگر کوئی نشانہ خطا بھی نہیں گیا، جو کہ مکان میں گولیوں کے خول یا نشان کی عدم موجودگی سے ثابت ہوتا ہے، تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ اسامہ بن لادن کے ہمراہ مکان کے اندر رہنے والوں میں سے کسی ایک نے بھی ایک بھی گولی کیوں نہیں چلائی

اس کے علاوہ کمیشن کے ارکان اور ماہرین کے اس کمپاؤنڈ کے تجزیے سے بھی بعض اہم نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔

ایک نکتہ جو اس رپورٹ میں اٹھایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جس مکان میں اسامہ بن لادن کے نصف درجن سے زائد مسلح ساتھی موجود تھے وہاں اسامہ کی ہلاکت کے لیے کی گئی فوجی کارروائی کے دوران صرف ایک گولی کا خول اور نشان پایا گیا ہے۔

گولی کا یہ نشان اسامہ بن لادن کے سونے کے کمرے کی دیوار پر پایا گیا تھا جہاں اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا۔ گولی کا یہ نشان دیوار میں اتنی بلندی پر موجود ہے کہ جیسے گھٹنا زمین پر ٹیک کر یہ گولی چلائی گئی ہو۔

کمیشن کے ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ اس گولی کا نشان ہے جو القاعدہ کے سربراہ کی ہلاکت کا باعث بنی۔ ممکنہ طور پر یہ گولی اسامہ بن لادن کے سر کے ایک حصے کو چیرتی ہوئی دیوار پر جا لگی تھی۔

گولی کے اس ایک نشان کے علاوہ پورے مکان میں کہیں نہ گولی کا خول ملا اور نہ ہی نشان۔

اس کے باوجود کہ کمیشن کے ارکان کو اسی مکان سے نصف درجن سے زائد کلاشنکوف رائفل ملیں جن میں سے کچھ ہلاک ہونے والے افراد سے ایک گز سے بھی کم فاصلے پر موجود تھیں۔

رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اسامہ کے ساتھیوں نے حملہ آور امریکی فوجیوں پر ایک بھی گولی کیوں نہیں چلائی۔ کیونکہ امریکی حکام کا بیان ہے کہ اس پوری کارروائی میں اس کا کوئی اہلکار دشمن کی گولی کا نشانہ نہیں بنا۔ اب اگر کوئی نشانہ خطا بھی نہیں گیا، جو کہ مکان میں گولیوں کے خول یا نشان کی عدم موجودگی سے ثابت ہوتا ہے، تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ اسامہ بن لادن کے ہمراہ مکان کے اندر رہنے والوں میں سے کسی ایک نے بھی ایک بھی گولی کیوں نہیں چلائی۔

ایبٹ آباد کمیشن اپنی یہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنے کا پابند ہے جو اس میں موجود سفارشات پر عمل کرنے کے لیے احکامات جاری کریں گے۔

اس رپورٹ تک پاکستانی عوام کی رسائی ممکن ہو گی یا نہیں، اس بات کا فیصلہ کرنے کا اختیار بھی صرف وزیراعظم کو حاصل ہو گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔