’رقم کی سود سمیت وصولی کے لیے کمیشن بنایا جائے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 مارچ 2012 ,‭ 15:17 GMT 20:17 PST
سپریم کورٹ آف پاکستان

براہِ راست چیف جسٹس کو خط لکھنے پر یونس حبیب کی سرزنش

سیاستدانوں میں رقم تقسیم کرنے سے متعلق ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغرخان کی پیٹیشن کی سماعت کے دوران یونس حبیب نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ سیاستدانوں اور فوج میں تقسیم کی گئی ایک ارب اڑتالیس کروڑ روپے کی رقم کی سود سمیت وصولی کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو مقدمہ کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران حبیب بینک کے سابق نائب صدر یونس حبیب نے فوج کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کے بیانات کا جواب بھی داخل کرایا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار ارم عباسی نے بتایا ہے کہ فوج کے سابق سربراہ اسلم بیگ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یونس حبیب ان پر الزام لگا رہے ہیں اور مقدمے کو ’سکینڈلائز‘ کر رہے ہیں۔

یونس حبیب نے عدالت میں اپنے جواب میں کہا کہ وہ مقدمے کو ڈرامائی شکل نہیں دے رہے بلکہ سچ بول رہے ہیں اور اس میں ان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے یونس حبیب کی جانب سے براہِ راست چیف جسٹس کوخط لکھنے پر ان کی سرزنش کی جس پر انہوں نے بعد میں معافی مانگی۔

یونس حبیب نے اپنے بیان میں عدالت کو ایک مرتبہ پھر بتایا کہ بعض سیاستدان آئی ایس آئی سے براہِ راست رقم نہیں لینا چاہتے تھے اس لیے انہیں استعمال کیا گیا۔ انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ سیاستدانوں میں تقسیم کی گئی ایک ارب اڑتالیس کروڑ روپے کی وصولی کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل کیا جائے اور رقم پر سود بھی وصول کیا جائے۔

"پہلے تو آئی ایس آئی اور ایم آئی کا نام آرہا تھا اب آئی بی کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ تو کیا ایجنسیوں کے پاس سیاسی عمل میں مداخلت کرنے کا کردار ہی رہ گیا ہے"

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران انگریزی اخبار ایکسپرس ٹریبیون میں شائع ہونے والی اس خبر کا ذکر بھی کیا جس میں نامعلوم ذرائع کے حوالے سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے بھی اپنے دورِ حکومت میں انٹیلجنس بیورو کے ذریعے پنجاب میں اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ستائیس کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس اخبار کے پبلشر اور رپورٹر کو بھی اس سلسلے میں دستاویزات مہیا کرنے اور معاونت کے لیے عدالت میں بلایا جائے گا۔

ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغرخان کی پیٹیشن میں حکومت کی تبدیلی کے لیے آئی ایس آئی اور فوج کے سابق سربراہ اسلم بیگ کی جانب سے پیپلز پارٹی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے سیاستدانوں میں رقم تقسیم کرنے کا معاملہ اٹھایا گیا تھا اور اس میں انٹیلیجنس بیورو کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’پہلے تو آئی ایس آئی اور ایم آئی کا نام آرہا تھا اب آئی بی کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ تو کیا ایجنسیوں کے پاس سیاسی عمل میں مداخلت کرنے کا کردار ہی رہ گیا ہے۔‘

اس پر اصغرخان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’جناب یہاں معاملہ انٹیلیجنس بیورو کی بجائے فوج کے اداروں کی جانب سے سیاست میں مداخلت کا ہے‘۔

جس پر جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس دیتے ہوا کہا کہ ’چور تو چور ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت کا کام ’ہر چور کو بےنقاب کرنا ہے۔‘

عدالت نے اسد درانی اور یونس حبیب سے کہا ہے کہ ’آپ دونوں نے اقبال جرم کیا ہے تو عدالت کو یہ بتانے کے لیے کہ کس قانون کے تحت آپ نے رقوم تقسیم کی ہیں اور اس کی وضاحت کے لیے اپنے وکلا کا بندوبست کر لیں‘۔

گزشتہ سماعت میں عدالت نے اس مقدمے پر ماضی میں ہونے والی سماعت اور ریکارڈ کیے گئے بیانات کو منظرِ عام پر لانے سے متعلق اٹارنی جنرل انوارالحق سے مشورہ مانگا تھا۔

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے جو لوگوں کو معلوم نہ ہو اس لیے پرانے ریکارڈ کو عام کر دیا جائے۔

عدالت نے اس مقدمے کی آئندہ سماعت تئیس مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔