BBC navigation

’خود کو آئین،قانون سے بالاتر سمجھنا چھوڑ دیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 1 مارچ 2012 ,‭ 08:50 GMT 13:50 PST

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل کے باہر سے اُٹھائے گئے گیارہ افراد سے متعلق پاکستانی فوج کے خفیہ اداروں کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان اداروں کے اہلکار خود کو آئین اور قانون سے بالاتر سمجھنا چھوڑ دیں۔

عدالت نے فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی یعنی انٹر سروسز انٹیلیجنس اور ایم آئی یعنی ملٹری انٹیلیجنس کے وکیل سے کہا ہے کہ وہ ان افراد کے بارے میں عدالت کو مطمئن کریں کہ اُنہیں کس خفیہ ادارے کی تحویل میں دیا گیا۔

جمعرات کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اڈیالہ جیل کے باہر سے رہائی کے بعد لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق درخواست کی سماعت کی تو فوج کے خفیہ اداروں کے وکیل راجہ ارشاد نے ان افراد سے متعلق تین صفحات کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان افراد کو کس قانون کے تحت حراست میں رکھا گیا اور نہ ہی اس ضمن میں کسی قانون کا حوالہ دیا گیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق خفیہ ایجنسیوں کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ لوگ فوجی قافلے پر ہونے والے حملوں میں ملوث تھے جس پر بینچ میں شامل جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر اُن کے خلاف درج مقدمات کی کاپیاں بھی شامل کی جانی چاہیے تھیں لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس نے راجہ ارشاد سے استفسار کیا کہ ایک سال تک یہ افراد کن اداروں کی تحویل میں رہے اور ان میں سے چار افراد کی ہلاکت کیسے ہوئی جس پر خفیہ ایجنسیوں کے وکیل نے یہ تو نہیں بتایا کہ کس خفیہ ادارے کی تحویل میں یہ افراد تھے تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ایک سال تک ان افراد کو حراست میں رکھا گیا اور اُس کے بعد جب یہ دیکھا گیا کہ ان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں بنتا تو اُس کے بعد ان افراد کو حراستی مراکز میں بھیج دیا گیا۔

فوج کے خفیہ اداروں کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ بڑے اہم مقدمات ہیں جن میں ثبوت اکھٹے کرنے میں وقت درکار ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ایجسنیاں صرف ملک دشمنوں کو پکڑتی ہیں اور دہشت گردی اور سازشوں سے ایجنسیاں اپنی آنکھیں بند نہیں کرسکتیں۔

راجہ ارشاد کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کمزرو کرنے کے لیے دوسرے ملکوں سے سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔

اپنا کردار محدود رکھیں

"ایجنسیاں اپنا کردار صرف اُسی حد تک محدود رکھیں جس کا آئین اور قانون اُس کی اجازت دیتا ہے۔ اُن کا جس صوبے (بلوچستان) سے تعلق ہے وہاں پر روزانہ لاشیں گرائی جا رہی ہیں اور الزام خفیہ ایجنسیوں پر آ رہا ہے"

چیف جسٹس

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گیارہ میں سے ان سات افراد کی جسمانی حالت کو دیکھ کر خوف آتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان قیدیوں میں سے دو قیدیوں کی ماں اپنے بچوں کی حالت کو دیکھ کر دم توڑ گئی لیکن ہم ٹس سے مس نہیں ہوئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایجنسیاں اپنا کردار صرف اُسی حد تک محدود رکھیں جس کا آئین اور قانون اُس کی اجازت دیتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اُن کا جس صوبے (بلوچستان) سے تعلق ہے وہاں پر روزانہ لاشیں گرائی جا رہی ہیں اور الزام خفیہ ایجنسیوں پر آ رہا ہے۔

فوج کے خفیہ اداروں کے وکیل کا کہنا تھا کہ فوج کی قیادت نے آئین کی پاسداری کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے جس پر بینچ میں شامل جسٹس خلجی عارف حیسن نے راجہ ارشاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ آپ بالاتر ہیں اور ہم کمتر۔

راجہ ارشاد کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ترمیم کی جانی چاہیے اور موجودہ پارلیمنٹ اس ضمن میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہی ہے جس پر چیف جسٹس نے فوج کے خفیہ اداروں کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں ایسا کہنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ وہ جن اداروں کی نمائندگی کر رہے ہیں اُن کے ذمہ دار افراد حکومت سے کہیں کہ دہشت گردی سے معاملات سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ اُنتیس مئی سنہ دوہزار نو میں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے عدم ثبوت کی بنا پر رہا ہونے والے گیارہ افراد کو خفیہ اداروں کے اہلکار اڈیالہ جیل کے باہر سے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے بعدازاں عدالت کو بتایا گیا کہ یہ افراد فوج کی تحویل میں ہیں۔ جن میں چار افراد ہسپتال میں ہلاک ہو گئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔