BBC navigation

رقوم کی تقسیم کا مقدمہ، تمام ریکارڈ طلب

آخری وقت اشاعت:  بدھ 29 فروری 2012 ,‭ 08:29 GMT 13:29 PST

ریٹائرڈ ائرمارشل اصغر خان کی اس درخواست کی سماعت لگ بھگ ساڑھے دس برسوں بعد شروع کی گئی ہے۔

ریٹائرڈ ائیرمارشل اصغر خان کی جانب سے پاکستانی سیاست، انتخابات اور حکومتوں کی تشکیل میں پاکستانی فوج اور اس کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے مشکوک کردار کو چیلنج کیے جانے کے مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے دو مارچ کو اس مقدمے کا تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کی بھی آٹھ مارچ کو طلب کیا ہےجبکہ اس درخواست کی گذشتہ سماعتوں کے دوران سابق فوجی سربراہ اسلم بیگ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی، اور سابق وزیرِ داخلہ نصیر داللہ بابر کی جانب سے گئے بیانات کا ریکارڈ بھی پیش کرنے کا حکم دیا۔

ریٹائرڈ ائیرمارشل اصغر خان کی اس درخواست کی سماعت لگ بھگ ساڑھے دس برسوں بعد شروع کی گئی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی تو عدالت نے کہا کہ ریکارڈ دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ اس درخواست پرکارروائی چلتی رہی ہے اور اس ضمن میں فوج کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ، فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی اور مہران بینک کے سابق صدر یونس حبیب کے بیانات ریکارڈ ہوئے ہیں۔

"اسد درانی کا بیان حلفی جمہوری اقدار کو کمزور کرنے کے مترادف ہے اور یہ جمہوری عمل میں مداخلت کا معاملہ ہے۔ "

اصغر خان کے وکیل

سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ یہ بیانات چیمبر میں قلمبند ہوئے تھے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’اس طرح تو اُن کے ریکارڈ شاید نہ مل سکیں‘ تاہم عدالت نے ڈپٹی رجسٹرار سے کہا کہ ’ان افراد کے بیانات کا ریکارڈ ہر صورت میں پیش کیا جائے۔‘

درخواست گُزار اصغر خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ’اسد درانی کا بیان حلفی جمہوری اقدار کو کمزور کرنے کے مترادف ہے اور یہ جمہوری عمل میں مداخلت کا معاملہ ہے۔‘ اُنہوں نے کہا کہ ایجنسی کا یہ اقدام مس کنڈکٹ کے ذمرے میں آتا ہے۔ اپنے بیان حلفی میں اسد درانی نے کہا تھا کہ ’اُنیس سو نوے کے انتخابات میں سیاست دانوں میں کروڑوں روپے کی رقم جنرل اسلم بیگ کی ہدایت پر تقسیم کی گئی تھی۔‘

"اُنیس سو نوے کے انتخابات میں سیاست دانوں میں کروڑوں روپے کی رقم جنرل اسلم بیگ کی ہدایت پر تقسیم کی گئی تھی۔"

اسد درانی کا بیان ِحلفی

سلمان اکرم نے عدالت میں اپنے موکل کا وہ خط پڑھ کر بھی سُنایا جو اُنہوں نے اُس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو لکھا تھا۔ اس خط میں آئی ایس آئی کی جانب سے اُنیس سو نوے کے عام انتخابات میں آئی ایس آئی کی جانب سے مبینہ طور پر نواز شریف کے علاوہ جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی مخالف دیگر جماعتوں میں کروڑوں روپےتقسیم کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔

بینچ کے سربراہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی سے متعلق استفسار کیا کہ کیا وہ پہلے بھی اس مقدمے میں عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں جس پر جنرل ریٹارئرڈ اسلم بیگ کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ وہ متعدد بار عدالت میں پیش ہوئے ہیں اور اُن کے علاوہ جنرل ریٹائیرڈ مرزا اسلم بیگ اور سابق وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کے بیانات بھی ریکارڈ ہوئے ہیں اور اُن پر جرح بھی ہوئی ہے۔

کِس کو کتنی رقم ملی

اصغر خان کے الزام کے مطابق فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے سنہ اُنیس سو نوے کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی مخالف جاعتوں میں رقوم تقسیم کیں اُن میں پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر نواز شریف کو پینتیس لاکھ روپے، جماعت اسلامی کو پچاس لاکھ روپے، صوبہ خیبر پختوان خوا کے سابق وزیر اعلی میر افضل کو ایک کروڑ روپے، پاکستان پیلز پارٹی کی مجلس عاملہ کی رکن عابدہ حسین کو دس لاکھ روپے، سابق نگران وزیر اعظم غلام مصطفی جتوئی کو پچاس لاکھ، سابق وزیر اعلی سندھ جام صادق علی کو پچاس لاکھ، پیر پگارا کو بیس لاکھ روپے، ہمایوں مری کو پندرہ لاکھ روپے، نصیر مینگل کو دس لاکھ روپے جبکہ دیگر چھوٹے چھوٹے گروپوں میں بھی لاکھوں روپے تقسیم کیے گئے۔
اصغر خان کے وکیل کے مطابق بزنجو اور کاکٹر کو بھی رقوم تقسیم کی گئیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جن افراد کو پیسے دیے گئے تھے کیا وہ کبھی عدالت میں پیش ہوئے جس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں جماعت اسلامی صرف اپنے دفاع میں پیش ہوئی تھی۔

سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ اس مقدمے کا تمام تر دارومدار سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کے بیان پر ہے اس لیے ان کی موجودگی کے بغیر کارروائی آگے نہیں چل سکتی۔ اس سماعت کے دوران سابق ڈی جی آئی ایس آئی کی نمائندگی کسی نے نہیں کی۔ اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ اُن کی اطلاعات کے مطابق اسد درانی ان دنوں کولمبو میں ہیں اور وہ پانچ یا چھ مارچ کو وطن واپس لوٹیں گے جس پر عدالت نے اسد دارانی کو آٹھ مارچ کو طلب کیا ہے۔

عدالت نے وزارتِ دفاع کی سیکرٹری نرگس سیٹھی کو بھی نوٹس جاری کیا ہے کیونکہ خط میں لکھا گیا ہے کہ آئی ایس آئی وزارت دفاع کے ماتحت ہے۔

اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے اس درخواست میں عدالت کی معاونت کرنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس درخواست میں بطور ڈپٹی اٹارنی جنرل پیش ہوتے رہے ہیں۔ سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔