bbc.co.uk navigation

’فوجی قیادت بھی بلوچستان کے مسئلے پر سنجیدہ ہے‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 25 فروری 2012 ,‭ 17:12 GMT 22:12 PST

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے پر اعلی فوجی قیادت سے بات ہوئی ہے اور وہ بھی اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ جوائینٹ چیفس آف دی سٹاف کمیٹی اور فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ سے بھی ملاقات میں اس معاملے کو اُٹھایا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی اس معاملے پر بات کریں گے۔

ہفتہ کو وزیر اعظم ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ بلوچ عوام کے مسائل آئین کے اندر رہتے ہوئے حل کیے جائیں گے۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ ’بلوچوں نے ملک کے لیے بہت سی قربانیاں دی ہیں اور اُن کی قربانیوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔‘

اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کے مسئلے کو بھی حل کیا جائے گا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی عوام کے لیے شروع کیا گیا آغازِ حقوق بلوچستان کا منصوبہ اُس وقت تک کارآمد نہیں ہوسکتا جب تک صوبے میں امن وامان کی صورت حال بہتر نہیں ہوتی۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ حال ہی میں حکومت نے بلوچستان میں امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے پولیس اور لیویز کو دو ارب روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت بلوچ رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اُن کی رضا مندی کے بعد اس معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس بُلائی جائے گی۔ اُنہوں نےکہا کہ حکومت نے بلوچستان کی ترقی کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔

افغانستان میں نیٹو فورسز کی سپلائی بحال کرنے سے متعلق یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی سے متعلق پارلیمان کی کمیٹی جو سفارشات تیار کرے گی اُس پر عمل کیا جائے گا۔

وزیرِ اعظم گیلانی نے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لائی جائیں گی جو ایوان بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات کے بعد بُلایا جائے گا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملکی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور ملک کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح کے تعلقات چاہتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے افغان صدر حامد کرزئی کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران اُن کی درخواست پر طالبان سے افغانستان میں امن کے حوالے سے بات چیت میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔

آئندہ ملکی بجٹ کے بارے میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے وزارت خزانہ کے حکام سے کہا ہے کہ وہ اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگائیں۔ اُنہوں نے دعوی کیا کہ ملک سے بہت جلد بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ میں کمی آئے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔