bbc.co.uk navigation

سات مارچ کو بلوچستان پر تفصیلی رپورٹ طلب

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 24 فروری 2012 ,‭ 14:35 GMT 19:35 PST

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سات مارچ کو انٹیلیجنس ایجنسیز سے بلوچستان کی امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

یہ احکامات جسٹس میاں شاکراللہ جان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جمعہ کو بلوچستان اسمبلی کے رکن بختیار ڈومکی کی اہلیہ اور بیٹی کے قتل پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران دیے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق سماعت شروع ہونے پر اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے کورٹ کو بتایا کہ انہوں نے پچھلح سماعت پر دیے جانے والے احکامات ملٹری انٹیلیجنس اور آئی ایس آئی کے متعلقہ افراد کو دے دیے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انٹیلیجنس ایجنسیز نے رپورٹ داخل کرنے کے لیے مہلت مانگی ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو مزید بتایا کہ خفیہ ایجنسیز نے درخواست کی ہے کہ رپورٹ کی حساس نوعیت کے پیشِ نظر سماعت چیمبر میں کی جائے اور پنچ مارچ تک کی مہلت دی جائے۔

عدالت نے کہا کہ رپورٹ موصول ہونے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ اس کی سماعت چیمبر میں کی جائے یا نہیں۔

تین رکنی بینچ نے سندھ کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی ڈومکی قتل کی تحقیاتی رپورٹ رد کردیا۔

حکومتِ سندھ کی جان سے پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملہ آور دو گاڑیوں میں سوار تھے۔

جسٹس میاں شاکراللہ جان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے پولیس کو حکم دیا تھا کہ وہ آنکھیں کھلی رکھ کر تحقیقیات کریں لیکن رپورٹ سے لگتا ہے کہ ایسا نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔