bbc.co.uk navigation

پشاور: کوہاٹ اڈے پر دھماکہ، بارہ افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 23 فروری 2012 ,‭ 07:47 GMT 12:47 PST

پشاور میں بم دھماکہ

پشاور میں بم دھماکہ

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ کوہاٹ بس اڈے میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں کم سے کم بارہ افراد ہلاک اور چھتیس زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح گیارہ بجے کے قریب پشاور شہر کے کوہاٹ روڈ پر واقع بس اڈے پر پیش آیا۔

پشاور کے ضلعی رابط افسر سراج احمد نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک کار بم دھماکہ تھا جو کوہاٹ اڈے کے اندر ہوا ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ دھماکے میں اب تک بارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ چھتیس افراد زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بم ڈسپوزل سکواڈ کے رپورٹ کے مطابق دھماکے میں چالیس کلوگرام کے قریب دھماکہ خیز مواد استمعال کیا گیا ہے۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ دھماکہ کوہاٹ اڈے کے مرکزی گیٹ کے قریب ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد گاڑی کے اندر نصب کیا گیا تھا۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق دھماکے سے اردگرد کھڑی پندرہ کے قریب مسافر گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں چار کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

پشاور پولیس کے سربراہ امتیاز الطاف کا کہنا ہے بظاہر لگتا ہے کہ دھماکہ پشاور کے قریب واقع قبائلی علاقے باڑہ میں شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی کا ردعمل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ عرصہ سے باڑہ کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف موثر کاروائی کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ کوہاٹ اڈہ پشاور شہر کے اندر واقع ہے۔ عام طورپر اس اڈے سے خیبر پختون خوا کے جنوبی اضلاع کوہاٹ، کرک، لکی مروت، ہنگو اور قبائلی علاقوں جنوبی اور شمالی وزیرستان ، کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی کےلیے ہائی ایس گاڑیاں جاتی ہیں۔ اس اڈے کے اندر ایک پولیس چوکی بھی قائم ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔