
پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کی اسمبلی نے امریکی کانگرس میں بلوچستان کو الگ ملک بنانے کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کے سالمیت اور خودمختاری کے خلاف ایک گھناؤنی سازش قرار دیا ہے۔
بدھ کو خیبر پختون خوا اسمبلی کا اجلاس سپیکر کرامت اللہ چغرمٹی کی صدارت میں شروع ہوا تو حکمران جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے پارلمیانی رہنما بشیر احمد بلور نے سپیکر سے درخواست کی کہ امریکی کانگرس میں بلوچستان کے معاملے پر پیش کی گئی قرار داد پر بحث کی اجازت دی جائے۔
سپیکرنے قواعد معطل کرتے ہوئے بحث کی اجازت دی جس کے بعد بشیر احمد بلور نے ایک قرارداد پیش کی جسے ایوان میں موجود تمام اراکین نے متفقہ طورپر منظوری دی۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکی کانگرس میں بلوچستان کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد پاکستان کی سالمیت، خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہے جس میں بلوچوں کو ماورائے عدالت قتل کرنے اور ان کے ساتھ سیاسی اور نسلی امتیاز برتنے جیسے زہر الود الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔
پشاور سے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کا کہنا ہے کہ قرارداد کے مطابق امریکی قرارداد سے پاکستانی عوام کے جذبات مجروع ہوئے ہیں جسکی نہ صرف مذمت کی جاتی ہے بلکہ یہ پاکستان کی خودمختاری میں امریکہ کی کھلی مداخلت ہے۔
قرارداد کے مطابق یہ ایوان سمجھتا ہے کہ امریکی قرارداد افغانستان میں نیٹو افواج کو سپلائی کی بندش اور شمسی ایر بیس کو خالی کرانے کا بدلہ لینے کی کوشش ہے اور پاکستانی عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑانے کی سازش کا حصہ ہے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے اس امر کی سفارش کرے کے آئندہ کےلئے امریکہ پاکستان کی اندرونی معاملات سے باز رہے۔
اس سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں رحیم داد خان، محمد جاوید عباسی، مفتی کفایت اللہ، اکرام خان درانی، قلندر لودھی، سکندر خان شیرپاؤ اور عبد الستار خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے بلوچستان کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد پر بات کی اور امریکی حکام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔


















