
کراچی میں بھی ثناء بلوچ کی ہلاکت پر احتجاجی ریلی نکالی گئی
بلوچ ری پبلکن پارٹی کے مرکزی رہنماء ثناء سنگت بلوچ کی مسخ شدہ لاش ملنے کے خلاف تین روزہ ہڑتال کی اپیل پر بلوچستان کے زیادہ تر حصوں میں منگل کو نظامِ زندگی متاثر ہوا ہے۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق منگل کو کوئٹہ اور اس کے مضافاتی علاقوں کے علاوہ صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی جس کے باعث نہ صرف تعلیمی ادارے بند رہے بلکہ قومی شاہراہوں پر ٹریفک بھی قدرے کم تھا۔
ثناء سنگت کی لاش گذشتہ روز تربت کے علاقے مرغاب سے ملی تھی اور انہیں منگل کو مستونگ کے علاقے کڈکوچہ میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
ثناء سنگت بلوچ سات دسمبر دو ہزار نو کو مستونگ سے سبی جاتے ہوئے کولپور کے مقام سے لاپتہ ہوئےتھے۔
بلوچ ری پبلکن پارٹی کے ترجمان شیر محمد بگٹی نے کہا کہ ثناء سنگت بلوچ کی مسخ شدہ لاش کا ملنا بلوچ دشمن پالیسوں کا تسلسل اور امریکہ میں بلوچستان کے مسئلے پر ہونے والی سماعت کا ردعمل ہے۔
شیر محمد بگٹی نے کہا کہ اس طرح کی قربانیوں سے بلوچ تحریک آزادی کو تقویت ملتی ہے اور بلوچ نوجوانوں میں تحریک آزادی کا جذبہ مزید تیز ہو جاتا ہے۔
تاہم بی آرپی کے مرکز ی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر بشیر عظیم نے سنگت ثناء بلوچ کی ہلاکت کی ذمہ داری پاکستان کے خفیہ اداروں پر عائد کی اور کہا کہ ’فوج اور دیگرادارے اب لاپتہ افراد کو مار کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کے پاس کوئی شخص نہیں ہے‘۔

کوئٹہ کے مضافاتی علاقوں کے علاوہ صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی
ثناء بلوچ کی ہلاکت کے خلاف کراچی میں بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن، بلوچ ریپبلکن پارٹی اور وائس فار مسنگ پیپلز کے کارکنوں نے بھی احتجاج کیا جس میں ثنا سنگت کی بہن زرینہ بلوچ نے بھی شرکت کی۔
نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ان کارکنوں کا کہنا تھا کہ ثنا کی بازیابی کے لیے متعدد بار پارلیمنٹ کے باہر اور دیگر شہروں میں احتجاجی کیمپ لگائے گئے اور یہ تمام بے سود نکلے۔
وائس فار مسنگ پیپلز کے وائس چیئرمین عبدالقدیر بلوچ نے ثنا سنگت کی ہلاکت کو امریکی کانگریس میں بلوچستان مسئلے پر ہونے والی بحث کا ردعمل قرار دیا۔
دوسری جانب سوموار اور منگل کی درمیانی شب کو وندر کے علاقے سے دو افراد کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں اور ورثاء نے ایک لاش کی شناخت نواب خیربخش مری کے دست راست، مری قبیلے کے معروف رہنما حاجی جان محمد مری اور دوسرے کی شناخت بشکیا بگٹی کے نام سے کرلی ہے۔
حاجی جان محمد مری کوایک ہفتہ قبل تین دیگر ساتھیوں کے ہمراہ نامعلوم افراد نے کراچی سے اغواء کیا تھا جبکہ بشکیا بگٹی تین ماہ قبل لسبیلہ سے لاپتہ ہوئے تھے۔





















