
یوسف رضا گیلانی ملک کے پہلے وزیراعظم ہیں جن پر توہینِ عدالت کے مقدمہ میں فردِ جرم عائد کی جارہی ہے
سپریم کورٹ پیر کو یعنی آج پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پراین آر او (قومی مفاہمتی آرڈیننس) سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے مقدمے میں فردِ جُرم عائد کر رہی ہے۔
جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔
وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی عدالتِ عظمی پہنچ چکے ہیں۔ وہ خود گاڑی ڈرائیو کرکے عدالت پہنچے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا آٹھ رکنی بینچ دس فروری کو وزیر اعظم پر فردِ جُرم عائد کیے جانے سے متعلق اس سات رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی انٹرا کورٹ اپیل مسترد کرچکا ہے۔
یوسف رضا گیلانی ملک کے پہلے وزیراعظم ہیں جن پر توہینِ عدالت کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے دو سابق وزراءِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نواز شریف کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔
پیر کی کارروائی میں اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق افیسر آف دی کورٹ کی حیثیت سے وزیر اعظم پر فرد جُرم کی سمری تیار کر کے عدالت میں پیش کریں گے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اٹارنی جنرل کی طرف سے ایسا کرنے سے انکار کی صورت میں عدالت کسی بھی وکیل کو سمری تیار کرنے سے متعلق کہہ سکتی ہے۔
وزیر اعظم پر فرد جُرم عائد کیے جانے کے بعد اُن کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن اس فیصلے کے خلاف دلائل دیں گے اس دوران عدالت کی طرف سے وزیراعظم کا موقف بھی سُنا جاسکتا ہے۔
ماہر قانون ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعظم کا بیان اُنیس جنوری کو عدالت میں پیش ہو کر دیے گئے بیان سے مطابقت رکھتا ہو تو پھر عدالت اُن کے وکیل کو دلائل مکمل کرنے کے بارے میں کہے گی۔
فردِ جرم کی سمری
اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق افیسر آف دی کورٹ کی حثیت سے وزیر اعظم پر فرد جُرم کی سمری تیار کر کے عدالت میں پیش کریں گے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اٹارنی جنرل کی طرف سے ایسا کرنے سے انکار کی صورت میں عدالت کسی بھی وکیل کو سمری تیار کرنے سے متعلق کہہ سکتی ہے
اُنیس جنوری کو وزیر اعظم نے سات رکنی بینچ کے سامنے اپنے بیان میں کہا تھا کہ آئین میں درج ہے کہ صدر کو اندرون اور بیرون ملک استثنیٰ حاصل ہے اس لیے وہ آئین کے پابند ہیں۔ متعدد موقعوں پر وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ صدر زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہیں لکھیں گے چاہے اُنہیں توہینِ عدالت کے مقدمے میں جیل ہی کیوں نہ جانا پڑے۔
ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ چونکہ اب تک وزیراعظم کی طرف سے توہین عدالت کے مقدمے میں تحریری جواب جمع نہیں کروایا گیا اس لیے اُن کے وکیل اس جواب کے لیے عدالت سے مزید مہلت بھی طلب کرسکتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ قانونی طور پر وزیراعظم کو اتنی جلدی نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن اُن پر اخلاقی دباؤ کافی زیادہ ہوگا اور اُن کے مستعفی ہونے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔
ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم کو توہین عدالت کے مقدمے میں سزا ہوجاتی ہے تو نئے وزیر اعظم پر بھی این آر او سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل کرنا لازمی ہوگا ورنہ اُنہیں بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یوسف رضا گیلانی سزا ملنے کی صورت میں وزیراعظم بھی نہیں رہیں گے بلکہ اُن پر کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے اور پارلیمان کا رکن بننے پر پانچ سال کی پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔

وزیر اعظم کی تیرہ فروری کو سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے رہنماء بھی وزیراعظم کے ساتھ ہوں گے
وزیر اعظم کے وکیل اعتزاز احسن اسی نکتہ پر اپنا دلائل جاری رکھیں گے کہ اُن کے مؤکل نے اُسی سمری پر عمل درآمد کیا جو وزارت قانون کی جانب سے بھیجی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سوئس عدالتوں میں صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات ختم ہوچکے ہیں لہذٰا متعقلہ حکام کو خط لکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے اس لیے وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں بنتی۔
وزیرِ اطلاعات فردوس عاشق اعوان بھی سپریم کورٹ پہنچ گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یوسف رضا گیلانی پاکستان کے منتخب وزیرِ اعظم ہیں، انہیں عدالت سے توقع ہے کہ اُن کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’وزیرِ اعظم آئین کے حلاف کوئی اقدام نہیں کر سکتے، وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں سمجھتے ہیں۔‘
سپریم کورٹ سے سزا کے بعد صدر کی جانب سے معافی دیے جانے کے امکان پر وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا پیپلز پارٹی آئین میں دی گئی گنجائش کے مطابق اقدامات کرے گی۔
وزیر اعظم کی سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ مقامی پولیس کے علاوہ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجزز کے اہلکار شاہراہ دستور پر واقع اہم عمارتوں پر تعینات کیے گئے ہیں جبکہ صرف اُنہی افراد کو اس شاہراہ پر جانے کی اجازت دی جائے گی جن کے وفاتر وہاں واقع ہیں ۔
سپریم کورٹ کی عدالت نمبر چار جہاں پر وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت میں فرد جُرم عائد کیے جانے کی کارروائی ہونی ہے وہاں پر داخلےکے لیے خصوصی پاسز جاری کیے گئے ہیں جبکہ اس موقع پر سپریم کورٹ میں صرف اُنہی وکلاء کو داخلے کی اجازت ہوگی جن کے پاس سپریم کورٹ میں مقدمات کی پیروی کرنے کا لائسنس ہے۔


















