
الحمرا کلچرل کمپلیکس میں ہونے والے میوزکل کنسرٹ کے موقع پر بھگدڑ میں تین طالبات ہلاک ہوگئی تھیں
پنجاب پولیس نے لاہور میں میڈیا کے ایک بڑے ادارے کے چیف ایگزیکٹو میاں عامر محمود کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے اس پر مزید کارروائی روک دی۔
تعزیرات پاکستان کی دفعہ تین سو دو کے تحت یہ مقدمہ گزشتہ مہینے اُن تین طالبات کی ہلاکت کے الزام میں درج کیا گیا جو الحمرا کلچرل کمپلیکس میں ہونے والے میوزکل کنسرٹ کے موقع پر بھگدڑ کا شکار ہوئی تھیں۔
لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق مقدمہ کے مرکزی ملزم میاں عامر محمود اس کالج کے سربراہ ہیں جس نے اس میوزک کنسرٹ کا بندوبست کیا تھا۔ میاں عامر محمود پاکستان کے ایک ایسے ٹی وی چینل کے سربراہ بھی ہیں جس نے بہت کم عرصے میں میڈیا میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔
بدھ کی رات مقدمہ درج ہونے کے فوری بعد میاں عامر محمود کے ٹی وی چینل اور صحافتی حلقوں نے اس پر احتجاج کیا اور جمعرات کو ریلیاں نکالنے کی دھمکیاں دیں۔ ٹی وی چینل کے ملازم صحافیوں نے قتل کے اس مقدمے کو آزادی صحافت کے منافی قرار دیا اور کہا کہ پنجاب حکومت نے جان بوجھ کر میاں عامر محمود کو اپنی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا ہے۔
مقدمہ کے اندراج اور شدید احتجاج کے کچھ ہی دیر بعد پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے اپنے ایک بیان میں اس ایف آئی آر پر مزید کارروائی روک دی۔
پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ نے کہا کہ الحمرا کلچرل کمپلیکس میں کنسرٹ کے بعد ہونے والی بھگدڑ میں ہلاکتوں سے دنیا ٹی وی اور پنجاب گروپ آف کالجز کے سربراہ میاں عامر محمود اور دیگر افراد کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر دفعہ تین سو دو کے تحت غیر قانونی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کنسرٹ میں ہونے ہلاکتوں پر پہلے سے ہی ایک ایف آئی آر درج ہے جس میں قتل خطا کی دفعہ تین سو بائیس عائد کی گئی ہے اور ان کے بقول ایک کیس کی دو ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتیں۔
غیر قانونی
پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ نے کہا کہ الحمرا کلچرل کمپلیکس میں کنسرٹ کے بعد ہونے والی بھگدڑ میں ہلاکتوں سے دنیا ٹی وی اور پنجاب گروپ آف کالجز کے سربراہ میاں عامر محمود اور دیگر افراد کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر دفعہ تین سو دو کے تحت غیر قانونی ہے
صوبائی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈی آئی جی میجر مبشر اللہ کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جو پولیس کی اس نااہلی کے خلاف جلد اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔
ایف آئی آر میں میاں عامر محمود کے علاوہ پنجاب گروپ آف کالجز کے دیگر انتظامی افسروں ڈاکٹر سہیل افضل، طاہر آغا، میجر ریٹائرڈ سلیم اور ساٹھ دیگر نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ ہلاک ہونے والی ایک طالبہ کے والد محمد نواز وڑائچ کی درخواست پر درج کیا گیا۔
محمد نواز وڑائچ نے موقف اختیار کیا کہ ان کی دو بیٹیاں فرح نواز اور زینب نواز پنجاب گروپ آف کالجز میں پڑھتی تھیں اور نو جنوری کو انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں کو الحمرا کلچرل کمپلیکس چھوڑا تا کہ وہ کالج انتظامیہ کی جانب سے منعقد ہونے والے کنسرٹ میں حصہ لے سکیں۔
لیکن کالج انتظامیہ کی غفلت کے باعث تقریب کے اختتام پر بھگدڑ مچ جانے سے اُن کی دونوں بیٹیاں شدید زخمی ہو گئیں اور اس کے بعد ان کی بیٹی فرح نواز سروسز ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئی۔
یاد رہے کہ میوزیکل کنسرٹ میں ہلاک ہونے والی طالبہ ماہین نسیم کے والد نسیم عباس پہلے ہی ایک پریس کانفرنس میں یہ کہ چکے ہیں کہ میاں عامر محمود میڈیا کو قابو کرنے کی بجائے حادثے میں ہلاک ہونے والی طالبات کے لواحقین سے معافی مانگیں اور ساتھ ہی انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے ہلاکتوں کا نوٹس لے کر جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا تاکہ اصل حقائق لوگوں تک پہنچائے جائیں۔


















