BBC navigation

بلوچستان کی حقیقت کون بتائے گا!

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 9 فروری 2012 ,‭ 15:33 GMT 20:33 PST

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں جہاں صحافیوں کو خطرات ہیں، وہیں صوبے سے معلومات کی خلاء کو پُر کرنے کے لیے بلاگنگ کے رحجان میں اضافہ ددیکھا گیا ہے۔ بلاگرز امید کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں گزشتہ سال عرب دنیا میں آنے والے’ عرب سپرنگ‘ نامی انقلاب جیسا انقلاب لائیں گے۔

صحافی اور بلاگر ملِک سراج اکبر کو گزشتہ سال مبینہ طور پر خفیہ اداروں کی دھمکیوں کی وجہ سے سیاسی بنیاد پر جلا وطن ہو کر امریکہ میں پناہ لینی پڑی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے وطن کو بہت یاد کرتے ہیں۔

’میں بائیس سال کی عمر میں ایک قومی اخبار کے لیے کوئٹہ کا بیورو چیف بنا۔ میرا خیال تھا کہ میرا بلوچستان میں ایک روشن مستقبل ہو گا۔ بلوچستان ہی میری اصل کہانی تھی، جس کو میں کھو بیٹھا ہوں۔‘

اگرچہ وہ بلوچستان کی سرزمین کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے، انہوں نے اپنی کہانی نہیں چھوڑی۔ جس آن لائن اخبار کی وجہ سے ان کو پاکستان کے خفیہ اداروں اور فوج کی طرف سے دھمکیاں ملیں وہ اب اسے پرخطر کوئٹہ کی بجائے پرامن واشنگٹن سے چلا رہے ہیں۔

’ہمارا اخبار بلوچ حال اس طریقے سے نہیں چل پا رہا جسیا ہم چاہتے تھے۔ ہم چاہتے تھے کہ ہم بلوچستان سے خبریں شائع کریں مگر ہم بروقت خبریں نہیں شائع کر پا رہے۔ اندرون بلوچستان میں ہمارے سٹرنگرز کو سکیورٹی کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔‘

"دنیا بھر میں اظہارِ رائے کا سب سے بہترین طریقہ کار سوشل میڈیا ویب سائٹس اور بلاگز کو مانا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہمیں اظہارِ رائے کا بنیادی حق نہیں ملا۔"

ملک سراج اکبر

سنہ 2006 سے سپریم کورٹ کے احکامات پر پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی نے اب تک کم سے کم چار ہزار ویب سائیٹوں کو بند کیا ہوا ہے، جن میں بلوچستان کے عنوان سے لکھے ہوئے بلاگز، دیگر ویب سائیٹس اور ویڈیوز شامل ہیں۔ ان میں سے ایک ویب سائٹ ملک سراج اکبر کی بلوچ حال بھی ہے۔

پی ٹی اے کے ایک اہلکار نے واضح کیا کہ ادارے کا ویب سائٹس کے مواد پر کوئی قانونی کنٹرول نہیں ہے۔ وہ صرف بین الوزارتی کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے فحش، توہین آمیز اور غیر ملکی ویب سائٹس پر پابندی لگاتے ہیں۔ ان غیر ملکی عناصر ویب سائٹوں میں بلوچ ویب سائٹس شامل ہونے کے سوال پران کا کہنا تھا ’غیر ملکی ویب سائٹس تو گنی چنی ہیں۔ ویسے بھی اس فیصلے پر پی ٹی اے کی کوئی مداخلت نہیں ہوتی۔‘

فیصلے کے اختیار پر اہلکار نے بتایا کہ آئی ٹی کی وزارت میں ایک بین الوزارتی کمیٹی ان معاملات کو دیکھتی ہے جس کی سربراہی سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی کرتے ہیں اور اس کمیٹی میں خفیہ اداروں کے نمائندے بھی بیٹھتے ہیں۔

ملک سراج اکبر کہتے ہیں ’دنیا بھر میں اظہارِ رائے کا سب سے بہترین طریقہ کار سوشل میڈیا ویب سائٹس اور بلاگز کو مانا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہمیں اظہارِ رائے کا بنیادی حق نہیں ملا۔‘

انٹرنیٹ سے متعلق حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم بائٹس فار آل کی حال ہی میں شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق، بلوچستان میں صحافیوں، وکلاء، طلبا اور سیاسی کارکنوں کی غیر قانونی حراست، گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور ان پر تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور ان واقعات کو پاکستانی ذرائع ابلاغ نے تقریباً ’بلیک آؤٹ‘ کیا ہے۔

حال ہی میں بعض بلوچ قوم پرست تنظیموں نے صوبہ بلوچستان میں اردو چینلز کو احتجاج میں بند کرایا۔ ان تنظیموں کا موقف تھا کہ پاکستان کا میڈیا بلوچستان کی صورتِ حال پر خاموش ہے۔

آزادی صحافت پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم انٹر میڈیا کے اہلکار اورنگزیب خان کا کہنا ہے ’بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، پاکستان کا مین سٹریم میڈیا اس کی درست عکاسی نہیں کرتا۔ خبریں تو آجاتی ہیں، لیکن اس پر مقامی لوگوں کی آوازیں سامنے نہیں آتیں اور نہ ہی گہرہ مطالعہ کیا جاتا ہے۔‘

"سب سے پہلے انسانی حقوق کی طرف توجہ دلوانی ہوگی۔ ہم پر جو مظالم ہو رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ہمیں انسان ہی تصور نہیں کیا جاتا۔ پہلے بات انسانی حقوق کی ہوگی اور پھر آگے چل کر خواتین کے حقوق پر بات ہو سکتی ہے۔"

ضمیر خان

اورنگزیب خان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت جو صحافت کی جا رہی ہے، وہ زبردستی کی ہے۔ ’صحافیوں کو ایسی خبروں کو رپورٹ کرنا پڑتا ہے جو شاید چھپنے کے لائق نہ ہوں مگر وہ دباؤ کے تحت مجبوری میں کام کرتے ہیں۔‘

گزشتہ سال اکتوبر میں اورنگزیب خان نے انٹرمیڈیا کے لیے اسی موضوع پر ’میڈیا انڈر تھریٹ ان بلوچستان‘ کے نام سے رپورٹ شائع کی تھی جس میں انہوں نے تین خطرات کی نشاندہی کی: فوج، شدت پسند اور مزاحمت کار۔ اس تین طرفہ دباؤ کے باعث بلوچستان کی اصل تصویر سامنے نہیں آ پاتی۔

اس ماحول میں بلوچستان سے خبروں کو عام کرنے میں بلاگرز کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ ملک سراج اکبر کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی خبروں کے لیے دنیا کی نظر اب بلاگز پر ہے۔ ’اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین کے اہلکار جان سولیکی کے اغوا کی خبر بلاگرز نے بریک کی تھی۔ ہمیں امریکہ سے پیغامات آ رہے تھے اور ہم ان کو تازہ صورتِ حال کے بارے میں آگاہ کر رہے تھے۔‘

سوال یہ ہے کہ کیا بلاگرز اصل تصویر کی عکاسی کر سکتے ہیں؟ ملک سراج اکبر کی طرح سب بلاگرز صحافی نہیں ہیں۔ میرا رابطہ انتیس سالہ ضمیر خان (نام تبدیل کیا گیا ہے) سے ایک خفیہ نمبر پر ہوا۔ وہ کوئٹہ میں کاروبار چلاتے ہیں اور سنہ 2009 سے بلوچستان کے بارے میں مختلف ناموں اور ویب سائٹوں پر لکھ رہے ہیں۔

ان کے بلاگز اور ٹوئٹس پر پاکستان کی فوج، پنجابیوں اور پاکستانی میڈیا پر تنقید تو ہوتی رہتی ہے مگر ان کے بلاگوں میں صوبے میں آبادکاروں کے قتل اور خواتین کے حقوق کے بارے میں خاموش ہیں۔

ضمیر خان اپنا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں ’سب سے پہلے انسانی حقوق کی طرف توجہ دلوانی ہوگی۔ ہم پر جو مظالم ہو رہے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ہمیں انسان ہی تصور نہیں کیا جاتا۔ پہلے بات انسانی حقوق کی ہوگی اور پھر آگے چل کر خواتین کے حقوق پر بات ہو سکتی ہے۔‘

ہوئی جس میں بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر غور کیا گیا۔

"امریکہ میں بلوچستان پر عوامی سماعت ایک طرح سے بلوچستان کے لیے چھوٹے پیمانے کا عرب سپرنگ ہے۔ اس کا پورا کریڈٹ بلوچ بلاگرز کو جاتا ہے جو خطرہ مول لےکر سچ کو منظرِ عام پر لائے۔"

ملک سراج

ملک سراج اکبر بلوچستان کے حالات پر آٹھ فروری کو امریکی ایوانِ نمائندگان میں کھلی سماعت کو بلوچستان کے بلاگرز کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی اور’انقلابی قدم‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کے بقول جن مسائل کے بارے میں شاید پنجاب میں آگاہی نہیں ہے امریکی وزراتِ خارجہ اور نظریاتی ادارے اس پر بات کر رہے ہیں۔

’ایک طرح سے یہ بلوچستان کے لیے چھوٹے پیمانے کا عرب سپرنگ ہے۔ اس کا پورا کریڈٹ بلوچ بلاگرز کو جاتا ہے جو خطرہ مول لےکر سچ کو منظرِ عام پر لائے۔‘

انٹرنیٹ پر بلوچ بلاگرز کی برادری تو متحرک ہو گئی ہے مگر وہ بلوچ قوم پرستوں پر تنقید کرنے سے گریز کرتے ہیں اور ان کا نقطہ نظر یکطرفہ ہوتا ہے۔ وہ صوبے کو مقبوضہ بلوچستان بھی کہتے ہیں اور تشدد کو قتلِ عام۔ اورنگزیب خان کا کہنا ہے کہ ویسے بھی اگرچہ بلاگرز یک طرفہ ہیں تو صحافیوں کو بھی سچی معلومات نہیں مل پاتی۔

تو بلوچستان کی حقیقی کہانی کون بیان کرے گا؟

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔