
مشرف کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے اس لیے وطن واپس نہیں آئے: ڈاکٹر مجتبیٰ
پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور جماعت کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر غلام مجتبیٰ نے ورکرز اجلاس طلب کرکے قیادت منتخب کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے پرویز مشرف کو مشورہ دیا ہے کہ حالات ساز گار نہیں ہیں وہ پاکستان واپس نہ آئیں۔
کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مجتبیٰ نے بیرسٹر محمد علی سیف پر الزام عائد کیا کہ وہ پارٹی کو ڈکٹیٹر کے انداز میں چلا رہے ہیں۔
بقول ان کے پارٹی نے پرویز مشرف کی حمایت میں لوگوں کو متحرک کرنا تھا مگر جس جماعت میں جمہوری رجحانات نہ ہوں وہ کامیاب نہیں ہوسکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر پرویز مشرف کی پاکستان نہ آنے کی تین وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا دیکھنا یہ ہے کہ کیا جنرل مشرف کو اس قدر عوامی حمایت حاصل ہے کہ انہیں واپس لایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب بینظیر بھٹو اور نواز شریف واپس آئے تھے تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا اور اپنے جذبات کی ترجمانی کی ۔
ڈاکٹر مجتبیٰ نے کہا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پر ویسے ہی بہت بوجھ ہے اور وہ جنرل مشرف کی کوئی مدد نہیں کرسکتی۔
ڈاکٹر مجتبیٰ کا کہنا تھا کہ ایسی عالمی قوتیں جو پاکستان کے حالات پر نگاہ رکھتی ہیں ان کا رد عمل بھی اہمیت رکھتا ہے۔ نواز شریف یا بینظیر بھٹو وطن واپس آئے تھے تو وہ کسی نہ کسی بین الا قوامی معاہدے کے نتیجے میں یہاں پہنچے مگر مشرف کو ایسی حمایت حاصل نہیں ہے۔
کراچی میں پچھلے دنوں آل پاکستان مسلم لیگ کے جلسے کے بارے میں ڈاکٹر مجتبیٰ کا کہنا تھا کہ وہ جلسہ اس بات کا گواہ ہے کہ جب مشرف تقریر کر رہے تھے تو دو تھائی شرکا جلسہ گاہ سے نکل چکے تھےجس سے ظاہرہوتا ہے کہ جنرل مشرف کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔
ڈاکٹر مجتبیٰ کا کہنا تھا کہ جنرل مشرف فوج کے سربراہ رہے ہوں گے اور صدر پاکستان بھی رہے ہوں گے مگر اس وقت وہ ایک سیاست دان ہیں، جتنی رعایت کسی اور سیاست دان کو مل سکتی ہے اس سے زائد رعایت انہیں نہیں مل سکتی ہے۔
’ مشکلات کے باوجود پرویز مشرف کو اتنا بہادر ہونا چاہیے تھا جو وہ واپس آتے پاکستان کی عدالتیں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتی ہیں۔
ڈاکٹر مجتبیٰ کا کہنا تھا کہ وہ جماعت کا ورکز اجلاس طلب کریں گے اور جماعت کے اندر انتخابات کرائیں گے۔ ہائی کورٹ میں اگلی سماعت سے قبل یہ واضح کر دیں گے کہ آل پاکستان مسلم لیگ کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہے اور یہ ہی قیادت فیصلہ کرے گی کہ کس جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا ہے۔


















