bbc.co.uk navigation

لاہور:ہلاکتیں اکیس، امدادی آپریشن جاری

آخری وقت اشاعت:  بدھ 8 فروری 2012 ,‭ 03:56 GMT 08:56 PST

امدادی کارکنوں نے منگل کو بھی ایک بزرگ خاتون کو بھی ملبے سے نکالا تھا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں منہدم ہونے والے کارخانے کی تین منزلہ عمارت کے ملبے سے اڑتالیس گھنٹے بعد ایک شخص کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔

حادثے کے دو دن بعد بھی جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ جب تک ملبے تلے دبنے والے تمام افراد کو نکال نہیں لیا جاتا آپریشن جاری رہے گا۔

صوبائی امدادی ادارے ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے بی بی سی اردو کے ظہیر الدین بابر کو بتایا کہ امدادی آپریشن کے دوران اب تک سولہ افراد کو زندہ نکالا گیا ہے جبکہ اکیس افراد کی لاشیں ملی ہیں جن میں زیادہ تعداد عورتوں کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امدادی کارکنوں نے بدھ کی صبح حادثے کے قریباً اڑتالیس گھنٹے کے بعد ایک لڑکے کو زندہ نکالا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس لڑکے کی ٹانگیں ملبے تلے دبی ہوئی تھیں اور اسے بیس فٹ گہرائی سے نکالا گیا ہے۔

فاروق احمد کا کہنا تھا کہ ’ملبہ پانچ گھنٹے میں اٹھایا جا سکتا ہے لیکن ملبے تلے دبے افراد کو نکالنا ترجیح ہے اور آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا کہ جب تک آخری فرد کو نکال نہیں لیا جاتا‘۔

"ملبہ پانچ گھنٹے میں اٹھایا جا سکتا ہے لیکن ملبے تلے دبے افراد کو نکالنا ترجیح ہے اور آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا کہ جب تک آخری فرد کو نکال نہیں لیا جاتا۔"

فاروق احمد، ترجمان ریسکیو 1122

اس سوال پر کہ اب کتنے افراد ملبے تلے موجود ہیں ترجمان نے کہا کہ حاضری رجسٹر میں پینتالیس مردوں اور سترہ خواتین کے نام تھے لیکن ہم سے جن لواحقین نے رابطہ کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ اب ملبے میں آٹھ افراد موجود ہیں۔

خیال رہے کہ عمارت گرنے کا یہ واقعہ لاہور کے گنجان آباد علاقے ملتان روڈ پر پیر کی صبح اس وقت پیش آیا تھا جب گیس سلنڈر پھٹنے سے تین منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی تھی اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

وزیراعلٰی پنجاب نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

پولیس نے اپنی مدعیت میں فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے تاہم اب تک صرف فیکٹری کے مینیجر منیر احمد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ منیر احمد کا کہنا ہے کہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا اس وقت فیکٹری میں تیس سے زائد افراد موجود تھے۔

اس کارخانے میں مویشیوں کے لیے ٹیکے تیار کیے جاتے تھے۔ لاہور کے ضلعی رابطہ افسر احمد چیمہ کا کہنا ہے کہ اس فیکٹری کو تین بار بند کرایا گیا تھا لیکن اس کے باوجود یہ دوبارہ کھول لی گئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔