
بیسویں آئینی ترمیم پر حکومت اور اپوزیشن میں بات چیت مکمل ہوگئی ہے اور فریقین کا کہنا ہے کہ ان کا بیشتر معاملات پر اتفاق ہوگیا ہے اور وہ اپنی اپنی جماعتوں کی قیادت سے بات چیت کے بعد بل کے مسودے میں تبدیلی کریں گے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان کے چیمبر میں فریقین میں مذارکرات کا تیسرا دور بدھ کی شام گئے تک جاری رہا۔
جس کے بعد وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے صحافیوں کو بتایا کہ بات چیت مکمل ہوگئی ہے اور اپنی قیادت کو اعتماد میں لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا طے ہوا ہے یہ نہیں بتا سکتا لیکن دو روز میں اتفاق سے بل منظوری ہوجائے گا۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ بات چیت میں اتفاق ہوگیا ہے اور اب کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز اور صوبوں میں اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے نگران حکومت کے لیے سمری صدر کو بھیجی جائے گی اور وہ اس کی منظوری دیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کس نے لچک دکھائی اس بات کا پتہ کل چل جائے گا۔ ان کے بقول مولانا فضل الرحمٰن نے انہیں حکومت سے بات چیت کا مینڈیٹ دیا ہے۔
فریقین میں معاملہ نگران حکومت کے طریقہ کار پر اٹکا ہوا تھا جبکہ الیکشن کمیشن کو با اختیار بنانے سمیت دیگر معاملات طے پا چکے ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ نگران حکومت اپوزیشن کی مشاورت سے بنائی جائے گی لیکن مسلم لیگ (ن) کا مطالبہ ہے کہ نگران حکومت اتفاق رائے سے قائم کیے جانے کی شق آئینی ترمیم میں شامل کریں۔
اب تک مذاکرات کے جو دور ہوئے ہیں اس میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر سید خورشید شاہ، سید نوید قمر اور میاں رضا ربانی جبکہ اپوزیشن کی جانب سے چوہدری نثار علی خان، آفتاب شیرپاؤ اور مولانا فضل الرحمٰن شریک ہوئے ہیں۔
بنیادی طور پر بیسویں آئینی ترمیمی بل کا مقصد سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ان اٹھائیس اراکین کے ضمنی انتخابات کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق قانون کا تحفظ فراہم کرنا ہے جو الیکشن کمیشن کے نامکمل ہونے کے دوران ہوئے ہیں۔
سپریم کورٹ نے حکومت کو چھ فروری تک مہلت دی تھی اور جب یہ بل منظور نہیں ہوسکا تو عدالت عظمیٰ نے مجوزہ بل کی منظوری تک متعلقہ اراکین کی رکنیت معطل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
بیسویں آئینی ترمیمی بل کا مقصد
بنیادی طور پر بیسویں آئینی ترمیمی بل کا مقصد سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے ان اٹھائیس اراکین کے ضمنی انتخابات کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق قانون کا تحفظ فراہم کرنا ہے جو الیکشن کمیشن کے نامکمل ہونے کے دوران ہوئے ہیں۔
حکومت نے اٹھارہ جنوری کو یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا اور سپیکر نے یہ بل کمیٹی کو بھجوایا تھا۔ کمیٹی نے یہ بل منظور کرنے کی سفارش کی ہے اور گزشتہ پانچ روز سے یہ بل ایجنڈے پر تو آتا ہے لیکن مؤخر ہوجاتا ہے۔
مرکز میں حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ (ن) نے پہلے اعتراض کیا تھا کہ اس بل میں ترمیم کی جائے کہ یہ صرف ایک بار کے لیے ہوگا اور آئندہ نامکمل الیکشن کمیشن کی صورت میں ضمنی انتخابات نہیں کرائے جا سکیں گے۔
ان کی یہ شرط حکومت نے مان لی لیکن بعد میں مسلم لیگ (ن) نے شرط عائد کی کہ الیکشن کمیشن کو با اختیار بنانے کے لیے کچھ مزید آئینی ترامیم اس میں شامل کریں۔ جب وہ بھی شرط حکومت نے مان لی تو اب نئی شرط نگران حکومت کے بارے میں سامنے آئی ہے۔
قائمہ کمیٹی نے جس بل کا مسودہ منظور کیا ہے اس کے مطابق اس بل کا اطلاق انیس اپریل سنہ دو ہزار دس سے ہوگا۔
واضح رہے کہ حکومت نے اتفاقِ رائے سے اٹھارہویں آئینی ترمیم منظور کی تھی اور اس پر انیس اپریل سنہ دو ہزار دس کو صدرِ مملکت نے دستحظ کیے تھے اور اس روز سے وہ لاگو ہوگئی تھی۔ اٹھارہویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ ہر صوبے سے ہائی کورٹ کے جج کو کمیشن کا رکن نامزد کیا جائے گا۔
لیکن چیف الیکشن کمشنر نے دیگر اراکین کی غیر موجودگی میں ضمنی انتخابات کروائے اور جب یہ معاملہ عدالت میں آیا تو سپریم کورٹ نے کہا کہ انیس اپریل سنہ دو ہزار دس کے بعد منعقد کردہ ضمنی انتخابات کو قانونی تحفظ دیا جائے۔


















