
فیکٹری میں مویشیوں کے لیے ٹیکے تیار کیے جاتے تھے
پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں منہدم ہونے والے کارخانے کی تین منزلہ عمارت کے ملبے سے منگل کی صبح تک سولہ لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ تیرہ افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔
وزیراعلٰی پنجاب نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
ریسکیو ادارے کے حکام نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ مرنے والوں میں چودہ خواتین اور دو مرد شامل ہیں جبکہ زندہ نکالے جانے والے افراد میں سے چھ خواتین اور سات مرد ہیں۔
یہ واقعہ لاہور کے گنجان آباد علاقے ملتان روڈ پر پیر کی صبح اس وقت پیش آیا تھا جب گیس سلنڈر پھٹنے سے تین منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی تھی اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔
نامہ نگار عباد الحق کے مطابق متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں پیر اور منگل کی درمیانی شب جاری ہیں اور اس دوران مزید چار لاشیں نکالی گئیں جن کے بعد مرنے والوں کی تعداد سولہ تک پہنچ گئی ہے۔
ٹی ایم او لاہور امتیاز اعوان کے مطابق ملبہ اٹھانے کا کام مزید چوبیس گھنٹے جاری رہے گا۔
پولیس نے اپنی مدعیت میں فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے تاہم اب تک صرف فیکٹری کے مینیجر منیر احمد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
"اس فیکٹری کو تین بار بند کرایا گیا تھا لیکن اس کے باوجود یہ دوبارہ کھول لی گئی۔"
ضلعی رابطہ افسر احمد چیمہ
منیر احمد کا کہنا ہے کہ جس وقت یہ حادثہ پیش آیا اس وقت فیکٹری میں تیس سے زائد افراد موجود تھے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ فیکٹری کے ارگرد تنگ راستوں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ملبے کے نیچے سے زخمیوں کو نکلنے کے لیے بھاری مشینری بھی استعمال کی جارہی ہے۔
اس کارخانے میں مویشیوں کے لیے ٹیکے تیار کیے جاتے تھے۔ لاہور کے ضلعی رابطہ افسر احمد چیمہ کا کہنا ہے کہ اس فیکٹری کو تین بار بند کرایا گیا تھا لیکن اس کے باوجود یہ دوبارہ کھول لی گئی۔
پولیس کے مطابق اس فیکٹری کے دو حصے تھے اور جس حصے میں کام ہوتا تھا وہ منہدم ہوا ہے جبکہ فیکٹری کے دفتر کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔


















