bbc.co.uk navigation

بیسویں آئینی ترمیم بل آج پیش ہو گا

آخری وقت اشاعت:  پير 6 فروری 2012 ,‭ 05:54 GMT 10:54 PST

پاکستان کی قومی اسمبلی میں آج (پیر ) آئین میں بیسویں ترمیم کا بل منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اس ترمیمی بل کا مقصد الیکشن کمیشن کے نامکمل ہونے کے دوران جو سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے اٹھائیس اراکین کے ضمنی انتخابات ہوئے ہیں انہیں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق قانون تحفظ فراہم کرنا ہے۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو چھ فروری تک مہلت دے رکھی ہے کہ وہ نامکمل الیکشن کمیشن کے تحت منعقد ضمنی انتخابات کو قانونی تحفظ دیں ورنہ عدالت اس بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔

حکومت نے اٹھارہ جنوری کو یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا اور سپیکر نے یہ بل کمیٹی کو بھجوایا تھا۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) نے اعتراض کیا تھا کہ اس بل میں ترمیم کی جائے کہ یہ صرف ایک بار کے لیے ہوگا اور آئندہ نامکمل الیکشن کمیشن کی صورت میں ضمنی انتخابات نہیں کرائے جا سکیں گے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اتوار کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ یہ آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور کی جائے اور اس مقصد کے لیے تمام جماعتوں سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ پچھلی تمام آئینی ترامیم متفقہ طور پر منظور کی گئی ہیں اس لیے حکومت اس ترمیم کو بھی متفقہ طور پر منظور کرانے کی خواہش مند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سپریم کورٹ نے پہلے ہی احکامات دیے ہیں کہ اس آئینی ترمیم کو اسمبلی سے منظور کرایا جائے۔

ترمیمی بل کا مسودہ پہلے ہی قومی اسمبلی کی قانون و انصاف کے بارے میں قائمہ کمیٹی نے منظوری کردیا ہوا ہے۔

قائمہ کمیٹی سے جو بل منظور کروایا ہے اس میں ان کی تجویز کے مطابق یہ شق شامل کی گئی ہے اور اس کا اطلاق انیس اپریل سنہ دو ہزار دس سے ہوگا۔

حکومت نے اتفاقِ رائے سے اٹھارہویں آئینی ترمیم منظور کی تھی اور اس پر انیس اپریل سنہ دو ہزار دس کو صدرِ مملکت نے دستحظ کیے تھے اور اس روز سے وہ لاگو ہوگئی تھی۔ اٹھارہویں ترمیم میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ ہر صوبے سے ہائی کورٹ کے جج کو کمیشن کا رکن نامزد کیا جائے گا۔

لیکن چیف الیکشن کمشنر نے دیگر اراکین کی غیر موجودگی میں ضمنی انتخابات کروائے اور جب یہ معاملہ عدالت میں آیا تو سپریم کورٹ نے کہا کہ انیس اپریل سنہ دو ہزار دس کے بعد منعقد کردہ ضمنی انتخابات کو قانونی تحفظ دیا جائے۔

حکومت نے مجوزہ بیسویں آئینی ترمیمی بل میں آئین کی شق دو انیس کی ذیلی شق (ای) میں ترمیم کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو کمیشن تصور کرنے کی شق شامل کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2012 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔